کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 438
اورآپ کودنیاوآخرت کی بہتری وبھلائی پرمشتمل اپنی رضااورخوشنودی کےکاموں کی توفیق بخشے۔انه سميع قريب سوال : کیا آپ کی کسی خاص فقہی مذہب سےوابستگی ہے، فتوی اوردلائل کے لیے آپ کا طریق کار کیا ہے؟ جواب : فقہ میں میر امذہب وہ ہے جو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کامذہب ہے لیکن برسبیل تقلید نہیں بلکہ ان اصولوں کی اتباع کے طور پر جنہیں انہوں نے اختیار فرمایاتھا۔اختلافی مسائل میں میرا طریق کاریہ ہے کہ میں صرف اسے ترجیح دیتا ہوں جوازروئے دلیل راجح ہو اوراسی کے مطابق فتوی دیتا ہوں خواہ وہ مذہب حنابلہ کے موافق ہویا مخالف، کیونکہ حق اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے، ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰه وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللّٰه وَالرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰه وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾(النساء۴ /۵۹) ’’ اے ایمان والو!اللہ اوراس کے رسول کی فرماں برداری کرواورجو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اوراگرکسی بات میں تمہارا آپس میں اختلاف ہو جائے تواگراللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہوتواس میں اللہ اوراس کے رسول (کے حکم)کی طرف رجوع کرو۔یہ بہت اچھی بات ہے اوراس کا مآل (نتیجہ و انجام)بھی اچھا ہے ۔‘‘ سوال : سوڈان میں اسلامک فرنٹ مختلف تحریکوں کی موجوگی میں سرگرم عمل ہے اورسوشلسٹوں اورمغرب زدہ لوگوں سےبرسرپیکار ہے، ان مختلف تحریکوں کی موجودگی میں اس طرح کے کام کے بارے میں ہم آپ کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں؟ جواب : لاریب مسلمانوں کا آپس میں باطل مذاہب، گمراہ کن تحریکوں، عیسائی، سوشلسٹ اورملحد مشنریوں سے جنگ کے سلسلہ میں باہم دگر(ایک دوسرے کے ساتھ)تعاون بہت اہم فریضہ ہے اورجہاد فی سبیل اللہ کی عظیم ترین صورت ہے اورارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰه ۖ إِنَّ اللّٰه شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدۃ۵ /۶) ’’ اور(دیکھو)نیکی اورپرہیزگاری کےکاموں میں ایک دوسرےکی مددکیاکرواورگناہ اورظلم کی باتوں میں مددنہ کرواوراللہ سے ڈرتے رہو، کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے ۔‘‘ اورفرمایا: ﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَ‌بِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾(النحل۱۶ /۱۲۵) ’’ (اے پیغمبر)لوگوں کو دانش اورنیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاؤ اوربہت ہی اچھے طریقے سے ان سے بحث(مناظرہ ) کرو ۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللّٰه وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ (فصلت٤١ /۳۳) ’’ اوراس شخص سے زیادہ اچھی بات والاکون ہوسکتا ہے، جو اللہ کی طرف بلائے اورنیک عمل کرے اورکہے کہ میں مسلمان ہوں ۔‘‘ صحیحین میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو خیبر کے