کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 392
سبب کی وجہ سے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم عام اورمطلق بیان فرمایاہے اوراسے کسی قید کے ساتھ مقید نہیں کیا اور اگرکپڑا از راہ تکبر ٹخنوں سے نیچے لٹکایاہوتوگناہ اوربھی زیادہ اوروعید اوربھی زیادہ شدید ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے :’’جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکائے، اللہ تعالیٰ روزقیامت اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔‘‘یہ گمان کرناجائز نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کی وجہ سے کپڑے کے لٹکانے سے منع کیا ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مذکورہ بالادونوں احادیث میں کسی بھی قید کے ساتھ مقید نہیں فرمایاجیساکہ ایک اورحدیث میں بھی اسے مقید نہیں کیا اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ سے فرمایاکہ’’کپڑے کو نیچے لٹکانے سے بچوکیونکہ یہ تکبر ہے ۔‘‘تواس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کونیچے لٹکانے ہی کو تکبر قراردیا، کیونکہ اکثر وبیشترتکبر ہی کی وجہ سے ایسا کیا جاتا ہے، جو شخص ازراہ تکبر نہ لٹکائے تواس کا یہ عمل وسیلہ تکبر ہے اور وسائل کا حکم بھی وہی ہوتا ہے جومقاصد کا ہوتا ہے، پھر اس میں اسراف بھی ہے اورکپڑا نجاست وگندگی سے آلودہ بھی ہوتا ہے ۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے جب ایک نوجوان کو دیکھا جس کا کپڑازمین پر لگ رہا تھا توآپ نے اس سے فرمایا:’’اپنا کپڑا زمین سے اونچاکرلو، اس سے رب راضی ہوگااورتمہاراکپڑا پاک صاف رہے گا ۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ سے جو یہ فرمایا، جب انہوں نے یہ عرض کیا: یا رسول اللہ!میرا تہبندڈھیلاہوکر لٹک جاتاہےلیکن میں اسےاوپررکھنےکی کوشش کرتاہوں، توآپ نےفرمایا:’’تم ان لوگوں میں سےنہیں ہوجوتکبرکی وجہ سےایساکرتےہیں ۔‘‘توآپ کی اس سےمرادیہ تھی کہ جس شخص کاکپڑاڈھیلاہوکرلٹک جائےاوروہ کوشش کرکےاسےاوپر اٹھالےتواس کاشماران لوگوں میں سےنہیں ہوگاجوازراہ تکبر اپنے کپڑے نیچے لٹکاتے ہیں کیونکہ اس نےاپنےکپڑےکوخودنیچےنہیں لٹکایا بلکہ کپڑا خودبخود ڈھیلاہوکرلٹک گیا اوراس نےاسےاوپراٹھالیاتوبےشک اس طرح کاشخص معذورہے۔ جوشخص جان بوجھ کراپنےکپڑےکوٹخنوں سےنیچےلٹکائےخواہ وہ عباہویاشلوار، قمیص ہویاتہبند، وہ اس وعیدمیں داخل ہےاوروہ اپنےکپڑوں کونیچےلٹکانےکی وجہ سےمعذورنہیں ہےکیونکہ وہ احادیث صحیحہ جوکپڑوں کونیچےلٹکانےسےمنع کرتی ہیں وہ اپنےمنطوق، معنی اورمقاصدکےاعتبارسےعام ہیں، لہٰذا ہر مسلمان پرواجب ہےکہ وہ اپنےکپڑےکوٹخنوں سےنیچےلٹکانےسےپرہیزکرے، اللہ تعالیٰ سےڈرےاورکپڑےکوٹخنوں سےنیچےنہ ہونےدےتاکہ ان احادیث پرعمل کرکےاللہ تعالیٰ کےغضب وعقاب سےمحفوظ رہ سکے۔واللّٰه ولي التوفيق_ بعض لوگوں کےکپڑےچھوٹےلیکن شلواریں بہت لمبی۔۔۔۔ سوال : بعض لوگوں کےکپڑےچھوٹےاورٹخنوں سےاوپرتک ہوتےہیں لیکن شلواریں بہت لمبی ہوتی ہیں تواس کےبارےمیں کیاحکم ہے؟ جواب : کپڑےکوٹخنوں سےنیچےلٹکاناحرام اورمنکرہےخواہ وہ قمیص ہویاتہبندیاشلوارہویاعبا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادہےکہ’’ تہبندکاجوحصہ ٹخنوں سےنیچےہوگاوہ جہنم میں جائےگا۔‘‘(بخاری)اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:’’تین قسم کےآدمی ایسےہیں جن سےاللہ تعالیٰ روزقیامت کلام فرمائےگانہ ان کی طرف دیکھےگااورنہ انہیں پاک کرےگا اور ان کےلیےدردناک عذاب ہوگا۔وہ تین قسم کےآدمی یہ ہیں:(۱)اپنےتہبندکو(ٹخنوں سےنیچےتک)لٹکانےوالا(۲)کوئی چیزدےکراحسان جتلانےوالااور(۳)جھوٹی قسم کھاکراپناسودابیچنےوالا۔‘‘(صحیح مسلم)اسی طرح آپ نےاپنےبعض صحابہ سےیہ فرمایا