کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 388
آپ کی بہن کی بات غلط ہے ۔اسے چاہئے کہ اس نے جو بات کی اورایک سورت کے پڑھنے کا انکار کیاتواس سے اللہ تعالیٰ کی بارہ گاہ میں توبہ کرے کیونکہ اس نے ایک باطل بات کہی ہے اورعلم کے بغیر اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایک بات کہہ دی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں، آپ کو اورآپ کی بہن کو ہدایت کی توفیق سےسرفراز فرمائے! مسجدمیں بلندآوازسےتلاوت سوال : کیا مسجد میں اس وقت بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت جائز ہے جب کچھ نمازی نفل اداکررہے ہوں؟ جواب : اس وقت مسجد میں بلند آواز سے تلاوت جائز نہیں ہے جب کہ گردوپیش کے نمازیوں یا قرآن مجید کی تلاوت کرنے والوں کے خلل میں مبتلاہونے کا اندیشہ ہو، اسی طرح مسجد سے باہر جس جگہ بھی تلاوت سے نمازیوں سے یا قرآن مجید کی تلاوت کرنے والوں کے خلل میں مبتلاہونے کا اندیشہ ہوتو سنت یہ ہے کہ تلاوت بلند آواز سے نہ کی جائے کیونکہ حدیث سے یہ ثابت ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں تشریف لائے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں اوربلند آواز سے قراءت کررہے ہیں تونبی علیہ السلام نے فرمایا کہ’’تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے سرگوشیاں کررہا ہے، لہذا ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو ۔‘‘ میت کے گھر میں قرآن خوانی سوال : کیا میت کے گھر میں اس طرح قرآ ن خوانی کرنا کہ گھر میں قرآن مجید کے نسخے (یا پارے)رکھے دیئے جائیں اورپڑوسی اوردیگر جاننے والے مسلمان آئیں اوران میں سے ہر ایک، ایک پارہ پڑھے اورپھر وہ اپنے کام پر چلا جائے اور اسے اس کی کوئی اجرت وغیرہ بھی نہ دی جائے۔۔۔۔۔اوراس طرح قرآن مجید کا ثواب میت کی روح کو پہنچایاجائے۔کیا اس انداز کی تلاوت اوردعا میت کو پہنچ جاتی ہے اورایصال ثواب ہوجاتا ہے ؟امید ہے آپ رہنمائی فرماکرشکریہ کا موقعہ بخشیں گے، کیونکہ میں نے بعض علماء سے سنا ہے کہ یہ حرام ہے جب کہ بعض اسے مکروہ اورکچھ علماء اسے جائز قراردیتے ہیں؟ جواب : یہ اوراس طرح کےدیگراعمال کی کوئی اصل نہیں ہے کیونکہ نہ تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایساثابت ہے اورنہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے یہ ثابت ہے کہ وہ مردوں کے لیے اس طرح قرآن خوانی کرتے ہوں بلکہ یہ تووہ عمل ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْس عَلَيْهِ أمْرُنا؛ فَهْوَ رَدٌّ)) ’’جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہماراامر نہیں ہے تووہ مردودہے ۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح میں اورامام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح میں تعلیقا مگر صحت کے وثوق کے ساتھ بیان فرمایا ہے اورصحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ((مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ)) ’’جس نے ہمارے اس دین (اسلام )میں کوئی ایسی نئی چیز پیدا کرلی جو اس میں نہ ہو تووہ عمل مردودہے ۔‘‘ صحیح مسلم میں حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے خطبہ میں یہ ارشادفرمایا کرتے تھے کہ’’حمدوثنا‘‘ کے بعد سب سے بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اورسب سے بہترین طریقہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، بدترین امور بدعات ہیں اورہر بدعت گمراہی ہے ۔امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح سند کے ساتھ الفاظ کو بھی بیان فرمایاہے’’اورہرگمراہی