کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 377
کہ جزیرۃ العرب میں کوئی یہودی یا عیسائی یا کوئی اورمشرک، خواہ وہ مردہویا عورت باقی رہنے دیا جائےکیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وصیت فرمائی تھی کہ انہیں اس جزیرہ سے نکال دیا جائے اورپھر ان امور کو سرانجام دینے کے لیے مسلمان مرد اورعورتیں بہت ہیں۔مسلمانوں میں ان کا وجوداس اعتبارسےبھی خطرہ سے خالی نہیں ہے کہ اس سے مسلمانوں کا عقیدہ واخلاق بھی خراب ہوتا ہے، لہذاجزیرۃ العرب کے تمام مسلمانوں پر یہ واجب ہے کہ وہ خدمت یا دیگر کاموں کے لیے غیرمسلم ملازموں کو نہ رکھیں تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل کرسکیں اوران بے شمار خطرات ونقصانات سے بچ سکیں جو غیرمسلموں کے ساتھ اختلاط سے مسلمان مردوں اورعورتوں کے عقیدہ واخلاق کو لاحق ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان سے بے نیاز ہوجانے کی توفیق بخشے اور ان کے شر سے محفوظ رکھے، انہ جوادکریم۔ کیاغیرمسلم خادماؤں سےپردہ کروں۔۔۔۔؟ سوال : ہمارے گھرمیں کئی غیرمسلم خادمائیں ہیں۔کیا میرے لیے ان سے پردہ کرنا بھی واجب ہے ؟کیا وہ میرے نماز والےکپڑے دھوسکتی ہیں؟کیا میرے لیے جائز ہے کہ ان کے دین کے عیوب نقائص بیان کروں اور ان کے سامنے واضح کروں کہ ان کے دین اورہمارے دین حنیف میں کیا نمایاں فرق ہے؟ جواب : علماءکےصحیح قول کے مطابق ان سے پردہ کرنا واجب نہیں ہے کیونکہ وہ دیگر تمام عورتوں ہی کی طرح ہیں اوران کے کپڑوں اوربرتنوں کے دھونے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ ضرورواجب ہے کہ اگروہ مسلمان نہ ہوں توان سے معاہدہ ختم کردیا جائےکیونکہ اس جزیرۃ العرب میں صرف اسلام ہی باقی رہ سکتا ہے اوراس ملک میں صرف مسلمانوں ہی کوبلانا چاہئے خواہ وہ عمال ہوں یا خادم، خواہ مردہوں یا عورتیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ مشرکوں کو اس جزیرہ سے نکال دیا جائے اوراس میں دودین نہ ہوں کیوں کہ یہ اسلام کا مرکز اورمطلع آفتاب رسالت ہے، لہذا اس میں دین حق، یعنی اسلام کے سوا اورکوئی دین باقی نہیں رہ سکتا۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حق کی اتباع اوراس پر استقامت کی توفیق بخشےاورغیر مسلموں کو دیگر تمام ادیان ترک کرکے دین اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطافرمائے۔ آپ کو چاہئے کہ انہیں اسلام کی دعوت دیں، ان کے سامنے اسلام کے محاسن کو بیان کریں، ان کے دین میں جو نقص اورحق کی مخالفت ہے اسے واضح کریں اور بتائیں کہ اسلامی شریعت سابقہ تمام شریعتوں کی ناسخ ہے اوراسلام ہی وہ دین حق ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو مبعوث فرمایااورتمام کتابوں کو نازل فرمایا، ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّٰه الْإِسْلَامُ﴾ (آل عمران۳ /۱۹) ’’دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے ۔‘‘ نیزفرمایا: ﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ‌ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَ‌ةِ مِنَ الْخَاسِرِ‌ينَ﴾ (آل عمران۳ /۸۵) ’’اورجو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا، وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گااورایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا ۔‘‘ لیکن یاد رہے آپ اسلام کے بارے میں جو بات بھی کریں، علم وبصیرت کی بنیاد پر کریں کیونکہ علم کے بغیر اللہ تعالیٰ اوراس کے دین کے بارے میں بات کرنا منکر عظیم ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایاہے: