کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 311
جواز تو اس شریعت کاملہ کے محاسن میں سے ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ضرورت کے پیش نظر جائز قراردیا ہے اوراسے ایسی شروط کے ساتھ مشروط کیا ہے جن کی وجہ سے یہ حرام معاملات کے دائرہ سے نکل جاتی ہے کہ یہ ایک ایسا عقد ذمہ ہے جسے ایسی صفات کے ساتھ موصوف قراردیا جاتا ہے جو اسے اس طرح نمایاں اورممتاز کردیتی ہیں کہ اس میں جہالت اوردھوکے کا کوئی شائبہ نہیں رہتا کہ سودتومدت مقررہ کے بعد دیا جاتا ہے لیکن قیمت اسی مجلس میں فورا اداکردی جاتی ہے اوراس میں جو مصلحت کارفرماہوتی ہے اس سے بائع اورمشتری دونوں مستفید ہوتے ہیں کہ بائع قیمت کے ساتھ اپنی فوری ضرورتوں کو پوراکرلیتا ہے اوریہ مشتری کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس نے اس سودے کو کم قیمت پر خریدا ہوتا ہے جیساکہ اکثر وبیشتر صورتوں میں ہوتا ہے تو بیع سلم میں کسی ضرر(نقصان )۔ غرر(دھوکے)، جہالت اورسودکے بغیر بائع اورمشتری دونوں کو فائدہ ہوتا ہے، جب کہ اس کے برعکس سودی معاملات اس معین اضافہ پر مشتمل ہوتے ہیں، جسے شارع نے حرام قراردیا ہے جب کہ جنس کی جنس کے ساتھ نقدیا ادھارہو اوراسے اکبر الکبائر میں سے قراردیا ہے ۔اس کو حرام قراردینے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حکمت بالغہ بھی ہے اوربند گان الٰہی کے لیے بھی اس میں عظیم اور اچھے نتائج ہیں کہ اس طرح وہ قرض درقرض سے محفوظ رہتے ہیں اورسودکے لالچ میں آکر اپنے منفعت بخش منصوبوں اورمفید صنعتوں کو بھی معطل نہیں کرتے۔ مقالہ نگارکاجویہ خیال ہے کہ بینک اوربینکوں کایہ نظام انسانوں کی ان ضرورتوں میں سے ہے جن کے بغیر ان کا معاشی نظام مستحکم ہوہی نہیں سکتا۔۔۔الخ تویہ ایک بےبنیاد خیال ہے جو صحیح نہیں ہے کیونکہ چودھویں صدی سے قبل اوربینکوں کے وجود میں آنے سے پہلے بھی اس نظام کے بغیر لوگوں کی مصلحتیں پوری ہوتی رہی ہیں اوراس دورمیں ان کی ضرورتیں تشنہ تکمیل رہیں نہ ان کے منفعت بخش پروگرام ہی معطل ہوئے بلکہ خلل اورمصالح میں تعطل تواس وقت رونما ہوا جب لوگوں نے ان حرام معاملات کو اختیار کیا اورمعاشرے نے اپنے فرض کو ادانہ کیا کہ لوگ اپنے بھائیوں کے ساتھ معاملہ میں ہمدردی وخیر خواہی اورامانت وسچائی کو اختیار کرتے اوران تمام معاملات سے اجتناب کرتے جو سود، دھوکے، خیانت اورملاوٹ پر مبنی ہیں، چنانچہ دنیا کے حالات ہماری اس بات کی صداقت کی گواہی دے رہے ہیں۔مصالح کو صرف اسی وقت پروان چڑھایاجاسکتا ہے اورمفید تعاون کی راہیں صرف اسی صورت میں ہموارہوسکتی ہیں کہ ہم اس شاہراہ شریعت کواختیار کریں جو صداقت وامانت پر مبنی اورکذب وخیانت اوران امورسےدورہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے معاملات کے سلسلہ میں اپنے بندوں پر حرام قراردیا ہے جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب مبین میں ارشاد فرمایاہے کہ: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ‌ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (المائدہ۵ /۲) ’’(اوردیکھو)نیکی اورپرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مددکیا کرو اورگناہ اورظلم کی کاموں میں مددنہ کیا کرو ۔‘‘ اورفرمایا: ﴿إِنَّ اللّٰه يَأْمُرُ‌كُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾ (النساء۴ /۵۸) ’’تحقیق اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرواورجب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو توانصاف سے فیصلہ کرو ۔‘‘
[1] ۔ یہ حضرت ابوواقدلیثی رضی اللہ عنہ سےمروی اس حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ ہم جنگ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام حنین کی طرف جارہے تھے اورہمارازمانہ کفر ابھی نیا نیا گزراتھا، راستے میں ایک جگہ بیری کا درخت آیا جس کو ذات انواط کہا جاتا تھا، مشرکین اس درخت کے پاس بیٹھنا باعث برکت خیال کرتے تھے اوراپنے ہتھیار بھی برکت کے لیے اس درخت پر لٹکایا کرتے تھے حضرت ابوواقدلیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چلتے چلتے ہم ایک بیری کے درخت کے پاس سے گزرےتوہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ جیسے ان مشرکین کے لیے ذات انواط ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقررفرمادیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اورفرمایا:تم بالکل وہی بات کہہ رہے ہو جوبنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہی تھی کہ اے موسی!ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں توموسی علیہ السلام نے جواب دیا کہ تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو اورپھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم بھی اگلی امتوں کے طریقوں پر چلوگے۔امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کیا اوراسے صحیح قراردیا ہے، علاوہ ازیں اسے امام احمد، ابویعلی، ابن ابی شیبہ، نسائی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اورکئی محدثین کرام رحھم اللہ نے بھی روایت کیا ہے۔(مترجم)