کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 301
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ﴾ (البقرہ۲ /۲۸۲) ’’مومنو!جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لیے قرض کا معاملہ کرنے لگوتواس کو لکھ لیا کرو ۔‘‘ اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی چیز کی بیع کرنا چاہے تو وہ معلوم ناپ، معلوم وزن اورمعلوم مدت تک کے لیے کرے، اسی طرح صحیحین میں بریرہ رضی اللہ عنہا کہ قصہ موجود ہے کہ اس نے اپنے مالک سے اپنے نفس کو نواوقیہ چاندی کے بدلے خریدا کہ ہر سال وہ ایک اوقیہ اداکرے گی، یہی بیع بالاقساط، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیع کا انکار نہیں فرمایابلکہ اسےبرقراررکھا اوراس سے منع بھی نہیں فرمایااوراس اعتبار سے کوئی فرق نہیں کہ ادھار کی صورت میں نقدوالی قیمت ہی ہویا مدت زیادہ ہونے کی وجہ سے قیمت بھی زیادہ ہو ۔ واللّٰہ ولی التوفیق۔ کیاایک بکری کی ادھار کی صورت میں دوبکریوں سے بیع جائز ہے سوال : کیا ایک بکری کی اس طرح بیع جائز ہے کہ مثلا بیس سال یا اس سے زیادہ مدت بعد دویا تین بکریاں دی جائیں؟ جواب : علماءکے صحیح ترین قول کے مطابق معین اورحاضر حیوان کی بیع ایک یا ایک سے زیادہ حیوانوں کے ساتھ جائز ہےجب کہ مدت معلوم ہو اورمدت خواہ قریب ہویا بعید اورخواہ متبادل حیوانوں کو قسطوں کی صورت میں اداکیا جائے جب کہ بطورثمن اداکیے جانے والے جانور اپنی صفات کے ساتھ ممتاز ہوں۔۔۔۔خواہ جانور فروخت شدہ جانور کی جنس سے ہویا کسی اورجنس سے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک 2اونٹ خریدا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئیں گے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم دو اداکریں گے ۔‘‘(حاکم وبیہقی۔۔۔اس حدیث کی سند کے رجال ثقہ ہیں) بینکوں کے سودی معاملات کو حلال سمجھنے والوں کی تردید الحمدلله، والصلوةوالسلام علي رسول الله، وعلي آله واصحابه ومن اهتدي بهداه ۔۔امابعد: میں نے وہ مقالہ دیکھا ہے جسے ڈاکٹر ابراہیم بن عبداللہ ناصر نے ’’بینکوں کے بارے میں اسلامی شریعت کا موقف ‘‘کےزیر عنوان لکھا ہے اس مقالہ کے مطالعہ سے معلوم ہواکہ انہوں نے پیچیدہ اسلوب، کمزوردلائل اورباطل شبہات کے ساتھ اس سود کو حلال قراردینے کی کوشش کی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قراردیا ہے لہذا مجھ پر یہ واجب ہے کہ میں یہ واضح کردوں کہ اس مقالہ کے مندرجات باطل ہیں اورکتاب وسنت اورعلماء امت کے اس اجماع کے خلاف ہیں کہ جس کی روسے سودی معاملات حرام ہیں۔میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ ان شبہات کو دورکردوں جنہیں اس مقالہ نگارنے پیش کیاہے اوررباالفضل اوررباالنسیئہ کو حلال قراردینے کے لیے اس نے جن دلائل کا سہارالیا ہے، وہ سب باطل ہیں۔مقالہ نگار کا خیا ل ہے کہ سود کی صرف ایک ہی صورت حرام ہے اوراس سےمراد وہ ہے جو رباالجاھلیۃ کے نام سے مشہور ہےاوراس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جب قرض اداکرنے کا وقت آتا ہے تو قرض دینے والا تنگ دست مقروض سے یہ کہتاہے کہ تمہیں یا تو میرا قرض اداکرنا پڑے گا یا اس پر سود دینا پڑے گا۔ڈاکٹر ابراہیم کے نزدیک سود کی صورتوں میں سےصرف یہ ایک صورت حرام ہے اوراس کے سوا باقی سب صورتیں حلال ہیں جیسا کہ ان کے مقالہ کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے، میں ان شاء اللہ تعالیٰ اس مسئلہ کو شافی انداز سے بیان کروں گا تاکہ حق واضح اورباطل نابود ہوجائے گا۔واللّٰه المستعان وعليه التكلان’ولا حول ولا قوة الابالله۔