کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 267
زکوۃ کی ایک بڑی رقم دی تاکہ میں اپنے علاقے کے فقیروں میں تقسیم کردوں لیکن میں خود اس رقم کا محتاج تھا، لہذا وہ میں نے اپنی ضرورت کے لیے رکھ لی، کیا اس رقم کے اپنے پاس رکھنے کی وجہ سے مجھے گناہ ہوگا؟جب کہ میں فقیر اورضرورت مند تھا اوریہ دولت مند آدمی اس علاقہ کے فقیروں میں توبہت زیادہ مال تقسیم کرتا رہتا تھا، امید ہے آپ میرےاس سوال کا جواب ضروردیں گے؟
جواب : آپ کایہ طرز عمل جائز نہیں بلکہ یہ تو خیانت ہے، لہذا آپ پر واجب ہےکہ فورا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کریں اوراس آدمی کی طرف سے نیت کرکے جس نے آپ کو اپنا وکیل بنایا تھا، مذکورہ مال کو زکوۃ کے مستحق مسلمانوں میں تقسیم کردیں ہاں اگر آپ ضرورت مند تھے تواس دولت مند شخص سے یہ کہہ سکتے تھے کہ میں بھی فقیر ہوں میری بھی زکوۃ سے مددکیجئے۔
زکوۃایک فقیر کو دینا افضل ہے یا زیادہ فقیروں کو؟
سوال: جب انسان اپنے مال کی زکوۃ اداکرے اوروہ بہت قلیل مثلا صرف دوسوریال ہوتوکیا وہ صرف ایک ضرورت مند گھر کو دینی افضل ہے یا مختلف گھروں میں تقسیم کردی جائے توافضل ہے؟جزاکم اللّٰہ خیرا۔
جواب : جب زکوۃ کی مقدار کم ہو توایک ضرورت مند کو دینی اولی اورافضل ہے کیونکہ اگر زکوۃ کم ہوگی اوراسےزیادہ گھروں میں تقسیم کردیا جائے گا تواس کی افادیت کم ہوجائے گی۔
کیاشوہر بیوی کے مال کی زکوۃ اپنی طرف سے اداکرسکتا ہے؟
سوال: کیا میرا شوہر میرے مال کی زکوۃ اداکرسکتا ہے جب کہ یہ مال بھی اسی نے مجھے دیا ہے ؟کیا میں اپنے بھانجے کو زکوۃ دے سکتی ہوں جب کہ وہ عنفوان شباب کی عمر میں ہے اورشادی کر نا چاہتا ہے؟
جواب : سونا، چاندی اوردیگر مال کی زکوۃ آپ پر واجب ہے جبکہ نصا ب کے بقدر یا اس سے زیادہ ہو اوراس پر سال گزرجائے، اگرآپ کی اجازت سے آپ کا شوہر آپ کی طرف سے زکوۃ اداکردے تواس میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح اگراسے آپ کی اجازت سے آپ کا بھائی یا والد یا کوئی اوراداکردے توبھی کوئی حرج نہیں۔شادی میں مددکے لیے آپ اپنے بھانجے کو زکوۃ دے سکتی ہیں جب کہ وہ خو داپنے اخراجات پورے نہ کرسکتا ہو۔اللہ ہم سب کو اپنی رضا کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وکیل کو مؤکل کے ان احکام کی پابندی کرنی چاہئے جو۔۔۔۔
سوال: ایک بھائی نے مجھے اپنے مال کی زکوۃ دی اورکہا کہ میں اسے سوڈان کے ان لوگوں میں تقسیم کردوں جو قول وعمل کے اعتبار سے کتاب وسنت کے پابند اورمیرے رشتہ دارنہ ہوں اوروہ زکوۃ کے محتاج و مستحق بھی ہوں، میرے پاس کچھ لوگ تو تھے لیکن وہ ان تما م شرائط پر پورا نہیں اترتے تھے، لہذا وہ رقم ابھی تک میری تحویل میں ہے، لہذا رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں ؟کیا اسے رقم واپس کردوں یا ان شروط کے بغیر جن کو میں مستحق سمجھوں ان میں یہ رقم تقسیم کردوں؟
جواب : آپ پر یہ واجب ہے کہ آپ کے مؤکل نے زکوۃ تقسیم کرنے کے لیے جو شرطیں بیان کی ہیں، ان کی پابندی کریں، اگران شرطوں کے مطابق زکوۃ کے مستحق نہ ملیں تووہ مال اس کے مالک کو واپس لوٹا دیجئے تاکہ وہ اسے خود مستحق لوگوں میں تقسیم کرے ۔ مؤکل کی وصیت کے برعکس آپ اپنی طرف سے اس میں تصرف نہیں کرسکتے کیونکہ دائرہ شریعت