کتاب: مقالات و فتاویٰ ابن باز - صفحہ 248
توکیا اس کے یہ معنی ہیں کہ میں ناپاک ہوگیا ہوں یا نہیں؟اگرمیں نماز پڑھتے ہوئے اس طرح محسوس کروں تواس سےمیری نماز باطل ہوجائے گی یا نہیں؟ جواب : نمازی کے یہ محسوس کرنے سے کہ اس کی دبر یا قبل سے کوئی چیز خارج ہوئی ہےوضو باطل نہیں ہوتا، لہذا اس کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی صورت حال کے بارے میں سوال کیا گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک آواز نہ سن لے یا بدبومحسوس نہ کرے ۔‘‘(متفق علیہ) تھکاوٹ اورنیند کی وجہ سے نماز فجر گھر میں اداکرنا سوال : میں بعض اوقات بہت تھکا ہوتا ہوں، دیر سے سوتا ہوں اوراس کی وجہ سے نماز فجرگھر میں ادا کرتا ہوں، توکیا یہ جائز ہے؟ جواب : بالغ مردوں پر یہ واجب ہے کہ وہ پانچوں نمازیں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مسجد میں اداکریں، لہذا نماز فجر یا کسی اورمیں سستی اورکوتاہی جائز نہیں کیونکہ نماز میں سستی وغفلت نفاق کی نشانی ہے جیسا کہ ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللّٰه وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ﴾ (النساء۴ /۱۴۲) ’’منافق(ان چالوں سے اپنے خیال میں)اللہ کو دھوکا دیتے ہیں(یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے)وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہوکر ۔‘‘ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’منافقوں کے لیے سب سے بوجھل نماز، عشاءاورصبح کی ہے اوراگرانہیں علم ہوتاکہ ان میں سے کس قدراجروثواب ہے تووہ ان کے لیے گھٹنوں کے بل چل کرآتے ۔‘‘ (متفق علیہ) نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشادگرامی ہے کہ’’جو شخص اذان سنے اورپھر مسجد میں نماز باجماعت اداکرنے کے لیے نہ آئے تواس کی نماز ہی نہیں ہوتی الایہ کہ کوئی عذر ہو۔‘‘ (ابن ماجہ، دارقطنی، حاکم باسنادصحیح)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابیناشخص آیااوراس نے عرض کیا :’’یا رسول اللہ !میرے پاس کوئی معاون نہیں جو مجھے مسجدمیں لےجائے، توکیا میرے لیے گھرمیں نماز اداکرنے کی اجازت ہے؟‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کیا تم اذان سنتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا :’’جی ہاں ‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ پھراذان کی آواز پر لبیک کہو ۔‘‘(صحیح مسلم) اگر نابینا شخص کو بھی ترک جماعت کے لیے معذور نہیں سمجھاگیا جسے مسجد میں لانے کے لیے کوئی معاون نہیں تھاتو دیگر لوگوں کو توپھر بالاولی مسجد ہی میں باجماعت نماز اداکرنا ہوگی ۔لہذا اے سائل!آپ پر یہ واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو، نماز فجر باجماعت اداکرنے کا اہتمام کرواوررات کوجلد سوجاؤ تاکہ نماز فجر کے لیے اٹھ سکو، مرض یا خوف وغیرہ کے کسی شرعی عذر کے بغیر گھر میں نماز نہیں ہوتی ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق اختیار کرنے اوراس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین!) ہماری مسجد کے کچھ نمازی نماز فجرتاخیر سےپڑھتے ہیں سوال : ہماری مسجد کے کچھ نمازی، نماز فجرتاخیر سےپڑھتے ہیں، میں نے انہیں کئی بارسمجھایا ہے لیکن بےسود۔توکیا اب محکمہ میں ان کی شکایت کردوں یا انہیں مسلسل سمجھاتارہوں؟