کتاب: مقالات توحید - صفحہ 189
کام آتے ہیں اور مشکل کشائی کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اس شبہ کے رد میں فر ماتے ہیں : ﴿وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآئُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ﴾ [آل عمران179]۔ ’’اور نہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ تمہیں غیب سے آگاہ کر دے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لیتا ہے اس لیے تم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھو اگر تم ایمان لا اور تقوی کرو تو تمہارے لیے بڑا بھاری اجر ہے ۔‘‘ نیزاللہ تعالیٰ فر ماتے ہیں : ﴿عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہِ اَحَدًا () اِلَّا مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَّسُوْلٍ ﴾ [الجن26۔ 27] ’’وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ سوائے اس پیغمبر کے جسے وہ پسند کر لے ۔‘‘ بارھواں شبہ:....ان کاعقیدہ ہے کہ اولیاء اللہ ان کی پکار کو سنتے اور اس کاجواب دیتے اور ان کی مدد کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس شبہ کے ردّ میں فر ماتے ہیں : ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْہُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْن﴾ [الاعراف194] ’’ بیشک تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی تم جیسے ہی بندے ہیں سو تم ان کو پکارو پھر ان کو چاہیے کہ تمہاری پکار کوسنیں اگر تم سچے ہو۔‘‘ تیرھواں شبہ:.... یہ کہ اللہ کے یہاں ان اولیاء اللہ کا بڑا مقام و مرتبہ ہے ۔ان کا عقیدہ ہے کہ جو کوئی اولیائے کرام کو پکارتا ہے؛ اولیاء اس کی شفاعت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس شبہ کاذکر کرتے ہوئے فر ماتے ہیں : ﴿وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمْ وَ لَا یَنْفَعُہُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ