کتاب: مقالات توحید - صفحہ 174
﴿اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَ رُھْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ﴾ [التوبۃ31] ’’ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایالیا اور مریم کے بیٹے مسیح کو بھی؛ حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان کے شرک کرنے سے۔‘‘ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ ،وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ، حَتّٰی لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَّدَخَلْتُمُوہٗ۔‘‘ قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہَ! اَلْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی؟ قَالَ : ’’فَمَنْ‘‘ )) [ البخاری3287 ؛ مسلم 6952۔] ’’تم ضرور بالضرور بالشت در بالشت اور ہاتھ در ہاتھ اپنے سے پہلے لوگوں کی راہ پر چلو گے حتی کہ اگر ان میں سے کوئی ایک گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہوگا تو تم بھی داخل ہو گے۔ ہم نے کہا : یارسول اللہ ! کیا ہم یہود و نصاری کی راہ پر چلیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں تو اور کس کی راہ پر ۔‘‘ اولیاء وصالحین کی عبادت اور مشرکین کے شبہات پر اللہ تعالیٰ کا ردّ: پہلا شبہ:.... اولیاء اللہ کے بارے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: ﴿اَ لَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾ [یونس62] ’’سن لو! بے شک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ولایت الٰہی ایسا مقام ہے جو صرف ابتدائی ایمان لانے سے حاصل نہیں ہوسکتابلکہ اس کے لیے مزید اعمال کی ضرورت پڑتی ہے۔ ولایت کا مقام و مرتبہ ایمان کے بعد تقوی اور اعمال صالحہ کے مدارج طے کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔اور تمام اعمال کا مدار ایمان باللہ پر ہوتا ہے جو کہ ان سب کی قبولیت کے لیے بنیادی شرط ہے۔