کتاب: مقالات توحید - صفحہ 167
فرمایاگیاہے کہ: ’’ میرابندہ نوافل کے ذریعہ میرے قریب ہوتارہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتاہوں اورجب میں اس سے محبت کرنے لگتاہوں تومیں اس کاکان بن جاتاہوں جس سے وہ سنتاہے،اس کی آنکھ بن جاتاہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کاہاتھ بن جاتاہوں ،جس سے وہ پکڑتاہے،اوراس کاپاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتاہے،وہ مجھ سے مانگے تومیں اسے ضروردیتاہوں ،مجھ سے پناہ طلب کرے تومیں اسے پناہ ضرور دیتاہوں ۔‘‘ لیکن یہ بات واضح رہے کہ اﷲ تعالیٰ کاتقرب صرف اسی کوحاصل ہوسکتاہے جواﷲ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق یہ سارے فرائض اورنوافل انجام دے،اگرکوئی شخص اﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ سے ہٹ کراﷲ تعالیٰ کی عبادت کرتاہے اوراس کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ کے تقرب اور ولایت کادعویٰ کرتاہے تواس کی عبادت مردودہوگی اورایساشخص اﷲ کاولی نہیں ہو سکتا،اس لیے کہ اﷲ کی ولایت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ضروری ہے۔ ہاں شیطان کا ولی ہونا الگ بات ہے۔ کیونکہ وہ بھی اپنے دوستوں کوان کے بر ے عمل خوبصورت کرکے دکھاتا ہے تاکہ انہیں فریب دیکر ان کے ایمان پر اور پھر ان کے ذریعہ عوام کے ایمان پر ڈاکہ زنی کرسکے۔ ۲۔اللہ والوں سے اللہ کے لیے محبت : سیدنا حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ((مَنْ أَحَبَّ فِی اللّٰہِ وَ أَبْغَضَ فِی اللّٰہِ وَ وَالٰی فِی اللّٰہِ وَ عَادٰی فِی اللّٰہِ فَإِنَّمَا تَنَالُ وَلَایَۃَ اللّٰہِ بِذٰلِکَ وَ لَنْ یَّجِدَ عَبْدٌ طَعْمَ الْاِیْمَانِ وَ إِنْ کَثُرَتْ صَلٰوتُہٗ وَ صَوْمُہٗ حَتّٰی یَکُوْنَ کَذٰلِکَ وَ قَدْ صَارَتْ عَامَّۃُ مُوَاخَاۃِ النَّاسِ عَلٰی أَمْرِ الدُّنْیَا وَ ذٰلِکَ لَا یُجْدِ عَلٰی أَھْلِہٖ )) [رواہ ابن جریر]