کتاب: مقالات توحید - صفحہ 163
تیرھواں مقالہ : اولیاء اللہ ولی کا معنی ہے قریبی ؛ایک معنی دوست کا بھی ہے۔ نیک انسان کو ولی اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں فرائض بجالاتے ہوئے اور محرمات ترک کرتے ہوئے اس کی قربت اختیار کرتاہے۔ اس کے علاوہ عوام میں ولی کا ایک غلط تصور بھی ہے۔ وہ تصور یہ ہے کہ ولی ایسے دوست کو سمجھا جاتا ہے جو مشکل وقت میں کام آتا ہے ،نفع و نقصان کا مالک ہے، بندے کی دستگیری کرنے والا اور نگرانی کرنے والا ہے توایسا’’ولی‘‘صرف اللہ ہے ،اس کے علاوہ کوئی ولی نہیں ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَ مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴾ [البقرۃ107] ’’اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست ہے نہ مددگار۔‘‘ یقینا مذکورہ معنوں میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی ولی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بالکل واضح کر دیا ہے۔جن معنوں میں صرف اللہ تعالیٰ ہی ولی ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا ولی نہیں ہے،ان معنوں اور مفہوم میں دوسرا کوئی شخص کسی بندے کو ’’ولی‘‘ بنا دے تو یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہو گا۔ اولیاء اللہ کی پہچان : سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھناچاہیے کہ اولیاء اﷲ کون ہیں ؟اوران کی پہچان کیاہے؟ اس لیے کہ دوستی اوردشمنی سے قبل دوست ودشمن کی شناخت ضروری ہے۔اس سلسلے میں اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس کی وضاحت فرمائی ہے،اﷲ تعالیٰ کافرمان ہے: ﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ () الَّذِیْنَ