کتاب: مقالات توحید - صفحہ 154
کہ اگرچہ وہ کچھ بھی اختیار اورسوجھ بوجھ نہ رکھتے ہوں ۔فرما دیجئے : تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے تمام آسمانوں اور زمین کا راج اسی کے لیے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جا ؤگے۔‘‘ پانچواں شبہ:....ان کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مطلق طور پر شفاعت ثابت ہے ۔اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس خیال پر رد کیا ہے۔ شفاعت کی شروط و قیود ہیں ؛جن کے بغیر سفارش یا شفاعت نہیں ہوسکتی ۔ ان شروط میں سے: پہلی شرط: ....شفاعت صرف وہی کرے گا جس کو اس کی اجازت ملے گی۔فرمان الٰہی ہے: ﴿ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ﴾ [البقرۃ 255] ’’ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اسکے سامنے شفاعت کرسکے۔‘‘ دوسری شرط:....جس کی شفاعت کی جارہی ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ راضی ہو؛ اور اس کے لیے سفارش وشفاعت کی اجازت دے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَ لَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی﴾ [ الانبیاء 28] ’’ وہ کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر بھی دی ہے کہ وہ مشرکین سے خوش نہیں ہے ؛اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ﴾ [التوبہ 96] ’’بیشک اللہ تعالیٰ توفاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا ۔‘‘ اگر کوئی کسی مشرک کے لیے سفارش کرے گا بھی تو یہ سفارش انہیں کچھ کام نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿فَمَا تَنْفَعُہُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعِیْنَ ﴾ [المدثر48] ’’پس انھیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہیں دیگی ۔‘‘ نیزاللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَمَانَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآئَکُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰٓؤُا