کتاب: مقالات توحید - صفحہ 142
﴿وَ قَدِمْنَآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآئً مَّنْثُوْرًا﴾ [فرقان:42] ’’اورہم ان کے اعمال کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو اڑتی ہوئی خاک کردیا۔‘‘ ایمان واعمال صالحہ کا ضیاع صریح وواضح کفر کی وجہ سے ہوگا نہ کہ احتمال کی وجہ سے کیونکہ احتمالات کو اس وقت تک عدم کفر پر ہی محمول کیاجائے گا جب تک آدمی کی نیت وارادہ سے کفر واضح نہ ہوجائے۔ دوسری سزا:....اگر مشرک انسان شرک سے توبہ نہ کرے ؛ اور اسی حالت میں موت آجائے تواللہ تعالیٰ اس کی مغفرت نہیں فرمائیں گے ۔ بھلے ہی وہ نمازیں پڑھے ؛ روزے رکھے ؛ حج کرے ؛ زکوٰۃ ادا کرے؛ اور یہ خیال کرتا رہے کہ وہ مؤمن ہے ۔ فرمان ِ الٰہی ہے : ﴿اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ﴾ [النساء48] ’’یقینا اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس [شرک]سے کم جس گناہ کو وہ چاہے بخش دیتا ہے۔‘‘ انسان سے جتنے بھی گناہ ہوجائیں اور پھر ان پر اس کی موت آجائے [ اور بغیر توبہ کے مرجائے ] تو ان کی بخشش ممکن ہے ، سوائے شرک کے ۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس جبریل امین تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا : ((أَبْشِرْ أُمَّتَکَ أَنَّہٗ مَنْ مَّاتَ لَا یُشْرِکُ بَاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ قُلْتُ: یَا جِبْرِیلُ! وَإِنْ سَرَقَ وِإِنْ زَنٰی ؟ قَالَ : نَعَمْ۔قَالَ :قُلْتُ : وَ إِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنٰی ؟ قَالَ : نَعَمْ ؛ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ۔)) [متفق علیہ] ’’ آپ اپنی امت کو خوشخبری دیجیے ان میں سے جو کوئی اس حال میں مریگا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ میں