کتاب: مقالات توحید - صفحہ 133
کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ شریعت نے اس کومنع نہیں کیا ہے۔ایسے ہی موقع پر فقہاء کہتے ہیں کہ: ’’اشیاء میں اصل اباحت ہے۔‘‘ لیکن وسائل شرعیہ کے جواز میں یہ بات کافی نہیں کہ شارع نے اس سے منع نہیں کیا ہے ،جیسا کہ اکثرلوگ یہ سمجھتے ہیں ۔بلکہ اس کے لیے ایسی نص شرعی[واضح حکم] کی ضرورت ہے جو اس وسیلہ کی مشروعیت اور استحباب پر دلالت کرتا ہو ۔کیونکہ استحباب اباحت پر ایک زائد شئے ہے،اس سے تقرب الٰہی حاصل ہوتا ہے اور ایسی طاعات صرف عدم ممانعت سے ثابت نہیں ہوسکتیں ؛بلکہ نصوص کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔اسی بنا پر بعض سلف کا کہنا ہے کہ: ’’جو عبادت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے نہیں کی وہ تم لوگ بھی مت کرو ۔ اس لیے کہ اگر ان میں کوئی خیر و بھلائی ہوتی تو صحابہ کرام ضرور ایسا کرتے۔‘‘ یہ بات ان احادیث سے اخذ ہوتی ہے جن میں دین میں نئی اِیجاد سے منع کیا گیا ہے ۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اصل عبادات میں منع ہے،البتہ کسی نص کے ذریعہ وہ چیز مباح ہوتی ہے ،اور عادات میں اصل اباحت ہے ،البتہ کسی نص کے ذریعہ وہ ممنوع ہوتی ہے۔‘‘ یہ نہایت اہم اوربنیادی باتیں تھیں جنہیں یاد رکھنا چاہیے،کیونکہ اِختلافات کے موقع پر حق سمجھنے میں یہ مددگار ہوں گی ۔ ۱۔ مشروع وسیلہ کی اقسام: اس کی تین اقسام ہیں : ۱۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے اسماء میں سے کسی اسم یا صفات میں سے کسی صفت کا وسیلہ ۔ ۲۔ اس نیک عمل کا وسیلہ ،جو دعا کرنے والے نے خود کیا ہو۔ ۳۔ کسی نیک اور زندہ انسان کی دعا کا وسیلہ اختیار کرنا۔ ۲۔ ممنوع وسیلہ کی اقسام : توسل مشروع میں بیان کیے گئے تین طریقوں کے علاوہ کسی اور طرح کا وسیلہ اختیار