کتاب: مقالات توحید - صفحہ 130
کا موقع دیا جائیگا۔ لیکن وہ سفارش سے پہلے اجازت طلب کریں گے اور جس کے حق میں اللہ تعالیٰ انہیں بولنے کی اجازت دیگا صرف اسی کے حق میں وہ سفارش کر سکیں گے۔ پھرسفارش کے لیے بھی شرط یہ ہو گی کہ وہ مناسب اور مبنی بر حق ہو۔بونگی سفارشیں کرنے کی وہاں اجازت نہ ہوگی؛ فقط نسبت و تعلق اور حسب ونسب کی بنا پر کسی کی نہ بخشش ہو گی نہ ہی اس کے حق میں سفارش قبول ہوگی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے: ﴿وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لاَ یَقْبَلُ مِنْھَا شَفَاعَۃٌ وَّ لاَ یُؤْخَذُ مِنْھَا عَدْلٌ وَّ لاَ ھُمْ یُنْصَرُوْنَ﴾[البقرۃ 148] ’’اور اس دن سے بچو جب نہ کوئی جان کسی جان کے کچھ کام آئے گی اور نہ اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ اس سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ ۱۸۔توسل: لغت میں : ....وسیلہ اصل میں اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ کسی دوسری چیز تک پہنچا جائے یا اسکی قربت حاصل کی جائے ۔ اصطلاح میں : ....ایسا سبب اختیار کرنا جو اللہ کے قریب کردے۔ وسیلہ کا معنی قرآن میں : توسُّل کا جومعنی گذشتہ صفحات میں بیان ہواہے لغت میں وہی مشہور و معروف ہے اور کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی ہے۔ سلف صالحین اور ائمہ تفسیر نے بھی دونوں آیات کریمہ میں ’’وسیلہ ‘‘کی تعریف یہی کی ہے وہ دونوں آیتیں یہ ہیں : ﴿یٰاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَابْتَغُوْآ اِلَیْہِ الوَسِیْلَۃَ وَجَاہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ [المائدہ:35] ’’اے ایمان والوں !اﷲسے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔‘‘