کتاب: مقالات توحید - صفحہ 108
کھانا چاہیں تو(کعبہ کی قسم نہ کہیں بلکہ) ربِّ کعبہ کی قسم کہیں اور یہ کہیں کہ جو اللہ چاہے اور پھرآپ چاہیں ۔‘‘ یہ واضح رہے کہ تمام مخلوق بشمول انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیاء و صالحین کے ارادے اور چاہتیں اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور چاہت کے تابع ہیں ۔ہوگا وہی جو اللہ تعالیٰ چاہیں گے۔ اس بارے میں انبیاء اور اولیاء سب اللہ تعالیٰ کے سامنے عجزو نیاز کے ساتھ فقیر اور محتاج ہیں ۔پس انسان کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ فلاں بابا کی منشاء و مرضی سے ایسے ہوا؛ یا فلاں ولی راضی ہوجائے گا تو میراکام ہوجائے گا۔جیسے لوگ کہتے ہیں :مولا پنجتن پاک کرم فرمائیں گے تو ایسا ضرور ہوگا۔پیرو مرشد کی نظر ِکرم سے ایسے ہوگیا؛یا ہوجائے گا۔واضح رہے کہ اللہ کی مرضی اور چاہت کے بغیر کسی بھی انسان کا کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّا اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ﴾ [التکویر:29] ’’اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ ربُّ العالمین نہ چاہے۔‘‘ ۸: تعویذ گنڈہ لٹکانا: نظر بد وغیرہ سے بچنے کیلیے تعویذ، گنڈہ، گھونگھا، سیپ،کوڑی یا اس طرح کی دیگر چیزیں لٹکاناشرک کے وسائل میں سے ہے۔اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ یہ سب چیزیں آفت ومصیبت ٹالنے یادورکرنے کے وسائل ہیں توایساعقیدہ رکھناشرکِ ا صغرہے۔کیونکہ ایساکرنے سے انسان کاتعلق غیراللہ سے جڑ جاتاہے۔اور اگر بذات خود ان کے مؤثر ہونے کا عقیدہ ہو تو یہ عین شرک ہے۔جیسے بعض لوگ پتھروں میں تاثیر مانتے اور ان کی انگوٹھیاں پہنتے ہیں ۔ اور بعض دیہاتی لوگ بچوں کی ٹوپیوں کے ساتھ اور گلے میں سیپیاں ا سی عقیدہ سے لٹکاتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ جس نے کسی آدمی کے گلے سے تعویذکاٹ دیا توڑکر پھینک دیا تویہ فعل ثواب میں ایک غلام آزاد کرنے جیساہے۔‘‘ برادران محترم! ہمیں اپنے ایمان وعقیدہ کی سلامتی کے لیے توحید کی حقیقت کوسمجھنا چاہیے ، اﷲ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں توحید خالص کی نعمت عطافرمائے اورہمیں ہرقسم کے شرک وشر