کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 86
حافظ رحمۃ اللہ علیہ کا مسانحہ ہے۔حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے انتیاب اور تناوب کے فرق پر غور نہیں کیا۔ ان دونوں لفظوں کو مترادف خیال کیا ہے۔ اسی وجہ سے نیتابوں کی تفسیر میں لکھا ہے:ای یحضر ونھانوبا اور اسی وجہ سے قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کے کلام میں نظر کی ہے۔ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کو انتباب اور تناوب کا فرق معلوم ہوا۔ اسی وجہ سے کوفیوں پر رد کیا۔ اور نووی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی یہ فرق معلوم ہوا۔ اسی وجہ سے نیناوبون کو تفسیر میں فقط یا تونھا لکھا ۔ اور لفظ ’’وباً ‘‘ نہیں بڑھایا ہے۔ حافظ رحمۃ اللہ علیہ جیسے متجر علامہ سے ایسا مسامحہ ہوجانا کچھ محل تعجب نہیں۔ عصمت انبیاء علیھم السلام کی شان ہے۔ علماء سے ایسے ایسے بہت مسامحات ہوئے ہیں۔ بالخصوص علمائِ مقلدین سے تو ایسے ایسے موٹے مسامحات وقوع میں آئے ہیں کہ ان علماء کی جلالت شان اور ان مسامحات کو دیکھ کر ایک عجیب حیرت ہوتی ہے۔ قال: چوتھی دلیل: مؤطا کے باب لا جمعۃ فی العوالی میں ہے۔ عن ابن شھاب عن ابی عبید مولی ابن ازھر قال شھدت انعید مع عثمان فجاء فصلی ثم انصرف مخطب وقال انہ قد اجتمع لکم فی یومکم ھذا عیدان فمن احب من اھل العالیۃ ان ینتظر الجمعۃ فلینتظر ھا ومن احب ان یرجع فقد اذنت لہ۔ اس کا خلاصہ ی ہے کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ کے زمانہ میں عیداور جمعہ ایک ہی دن پڑا۔ حضرت عثمان رضی الله عنہ نے بعد نمازِ عیداہلِ عالیہ کو اجازت دے دی کہ جس کا جی چاہے جمعہ کا انتظار کرے اور جس کا جی چاہے گھر واپس چلاجائے۔ اب اس کی وجہ یا تو یہ تھی کہ اجتماع عیدین کی صورت میں نمازِ عید ادا کرنے سے جمعہ ساقط ہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ بعضوں کا مذہب ہے۔ مگر قوی یہ ہے کہ چونکہ اہلِ بادیہ ہونے کی وجہ سے ان پر نمازِ جمعہ فرض نہ تھی ۔حضرت عثمان رضی الله عنہ نے گھر جانے اذن دیا۔