کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 309
فصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ میں احادیث صحیحہ سے چار تکبیریں ثابت ہیں، اور پانچ بھی ، اور بعض سے پانچ سے زیادہ بھی ثابت ہیں۔ مگر اکثر عمل چار تکبیروں پر رکھنا چاہیے، ایک تو اس وجہ سے کہ چار تکبیروں کی حدیث متفق علیہ ہے اور پانچ تکبیروں کی حدیث متفق علیہ نہیں ہے، بلکہ فقط مسلم کی ہے ۔دوسرے اس وجہ سے کہ حضرت زید بن ارقم جنھوں نے پانچ تکبیروں کی حدیث روایت کی ہے، ان کا عمل بھی عالم طور پر چار ہی تکبروں پر تھا ،کبھی کبھی پانچ تکبیریں کہہ لیاکرتے تھے۔ صحیح مسلم میں عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ زید ابن ارقم ہم لوگوں کے جنازہ پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے، اور ایک جنازہ پر انھوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ تکبیریں کہتے تھے۔ تیسرے اس وجہ سے کہ جمہورِ سلف وخلف اور امام مالک اور امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد وغیرہم کا عمل چار ہی تکبیروں پر تھا ،چوتھے اس وجہ سے کہ بعض ضعیف روایتوں [1] سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے [1] ان روایتوں کو حازمی نے کتاب ا لاعتبار (ص۱۶۲) میں ذکر کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔