کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 304
کے بائیں طرف کوئی نہ ہوتو بائیں طرف رکھے اور چاہیے، کہ اپنے دونوں پیروں کے درمیان رکھے، اور ایک روایت میں ہے کہ یا جوتیوںکو پہن کر نماز پڑھے۔ روایت کیا اس کو ابوداود نے، امام طحاوی حنفی شرح معانی الآثار (ص۲۹۴ج۱) میں لکھتے ہیں کہ اس بارے میں حدیثیں متواتر آئی ہیں کہ رسول اللہ کہ یا جوتیوں نے جوتی پہن کر نماز پڑھی ہے، پھر امام ممدوح نے اس بارے میں متعدد حدیثیں روایت کی ہیں، پھر آخر میں لکھتے ہیں کہ ’’جوتی پہن کر نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔‘‘ مراہوا لڑکا پیدا ہو تو اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے، اور اگر زندگی کے کچھ آثار پائے جائیں مثلاً چھینکنا یا رونا یا حرکت کرناتو اس پر نمازِ جنازہ پڑھنا چاہیے۔ حضرت باجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکے پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے اور نہ وہ میراث پائے اور نہ کوئی دوسرا اس سے میراث پائے یہاں تک کہ وہ آواز دے ۔ روایت کیا اس کو ترمذی ،نسائی اور ابن ماجہ نے، اور صحیح کہا اس کو ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ اور حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے(کذافی الدرایہ ص ۱۴۴)اس بارے میں اور بھی حدیثیں آئی ہیں جو اس حدیث کو تائید کرتی ہیں، اس حدیث میں لڑکے آواز دینے سے مطلب یہ ہے کہ اس میں زندگی کی کوئی علامت پائے جائے ،مثلا چھینکنا یا رونا یا حرکت کرنا۔ نمازِ جنازہ پڑھنے کا طریقہ نمازِ جنازہ پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ میت اگر مرد ہو تو امام اس کے سر کے پاس کھڑا ہو ااور اگر عورت ہو تو امام اس کی کمر کے پاس کھڑا ہو، اور مقتدی لوگ اس کے پیچھے صف باندھ کھڑے ہوں، بہتر یہ ہے[1]کہ تین صفیں کر لیں،پھر امام اور نمازوں کی طرف دونوںہاتھوں کو اپنے مونڈھوں یا کانوں تک اٹھائے اور بآواز بلند کہے اللہ اکبر ، پھر ہاتھوں [1] بو داود وغیرہ میں مالک بن ہییرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جس میت پر تین صفوں نے نماز پڑھی، اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت واجب کر لی، اور حاکم کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کی، ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے، اور حاکم نے صحیح بتایا ہے۔