کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 303
جنازہ کے وسطے مسجد کے علاوہ کوئی اور جگہ مقرر کرنی چاہیے،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد نبوی کے علاوہ ایک خاص جگہ نمازِ جنازہ کے واسطے مقرر تھی۔[1] بعد نمازِ عصر اور بعد نمازِ فجر نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے، ہاں آفتاب کے طلوع ہونے کے وقت اور غروب ہونے کے وقت اور ٹھیک دوپہر کو آفتاب کے کھڑے ہونے کے وقت نمازِ جنازہ پڑھنا نہیں چاہیے۔ نمازِ جنازہ چاہے جو تی پہننے ہوئے پڑھے یا نکال کر پڑھے دونوں طرح پڑھنا جائز و درست ہے، پہنے ہوئے پڑھنا چاہے تو جوتیوں کوالٹ کر دیکھ لے ناپاکی لگی ہو تو زمین پر خوب رگڑ ڈالے کہ پاک وصاف ہو جائے اور نکال کر پڑھنا چاہے،تو جو تیوں کو اپنے دونوں پیروں کے درمیان رکھے ، اپنے آگے اور داہنی طرف نہ رکھے، اور بائیں طرف اگر آدمی نہ ہو تو پیچھے رکھنا بھی درست ہے، نمازِ جنازہ کے علاوہ اور نمازوںکو بھی جوتی پہنے ہوئے پڑھنا درست ہے، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوئی شخض مسجد میں آدے تو اپنی جوتیوں کودیکھے اگر ان میں ناپاکی معلوم ہو تو زمین پر رگڑ ڈالے ، پھر ان کو پہن کر نماز پڑھے، روایت کیا اس کو ابو داود نے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوئی نماز پڑھے تواپنی جوتیوں کو اپنی داہنی طرف نہ رکھے اور نہ اپنی بائیں طرف رکھے۔ہاں اگر اس
[1] صحیح بخاری میں ہے: عن عبد اللہ بن عمر ان الیھود جاء والی النبی صلی اللہ علیہ وسلم برجل منھم وامرۃ زنیا فامرھما فرجما قریبامن موضع الجنائز عند المسجد اور مشکوٰۃ میں باب الافلاس والانظار میں ہے عن محمد بن عبد اللہ بن حجش قال کنا جلوساً بفنا ء المسجد حیث یوضع الجنائز الحدیث۔ حافظ ابن حجر فتح الباری(ص۶۸۸)میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے تحت میں لکھتے ہیں: دل حدیث ابن عمر المذکور علی انہ کا للجنائز مکان معد لصلوٰۃ علیھا فقد یستفا دمنہ ان ما وقع من الصلوٰۃ علیٰ بعض الجنائز فی المسجد کان لا مر عارض اولبیان الجواز ۔ انتھٰی