کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 283
تیسرا باب کفن کے بیان میں میت نے اگر کچھ مال چھوڑا [1] ہے تو پہلے اس سے اس کی تجہیز وتکفین کی جائے گی گر اس قدر مال چھوڑا ہے کہ اس سے کفن مسنون ہو سکتا ہے تو کفن مسنون ہی دینا چاہیے۔ یعنی میت مرد ہو، تو تین کپڑے اور عورت ہو تو پانچ کپڑے، اور اگرا س قدر مال نہیں چھوڑا ہے تو تین اور پانچ کی کو ئی قید نہیں دو کپڑے ہو سکیں تو دو ہی کافی ہیں، ایک ہو سکے تو ایک ہی کافی ہے ،بلکہ ضرورت کے وقت ایک ایسے کپڑے میں بھی کفنا ناجائز ہے جو اس قدر لمبا نہ ہو کہ میت کے پورے قدکو چھپائے ،ایسی صورت میں سر کی طرف کفنانا چاہیے اور پیروں کی طرف اذخر[2]سے یا کسی اور گھاس سے چھپا دینا چاہے، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ احد کے دن حضرت معصب بن عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو ان کے کفن کے واسطے کوئی کپڑا نہیں ملا، مگر ایک ایسی چادر تھی کہ اس سے ہم لوگ ان کا سر چھپاتے تو پیر کھل جاتے اور پیر چھپاتے تو سر کھل جاتا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم لوگ ان کا سر چھپائیں اور پیروں پر اذخر ڈال دیں(بخاری) حضرت حمزہ بھی اسی طرح ایک ناکافی کپڑے میں کفنائے گئے تھے کہ سر کی طرف کفن تھا اور پیر اذخر سے سے چھپادیے گئے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفید کپڑے پہنو، کیونکہ وہ تمھاری بہترین کپڑوں سے ہیں اور ان میں [1] فقہائِ حنفیہ لکھتے ہیں کہ اگر میت نے کچھ مال نہیں چھوڑا تو اس کی تجہیز وتکفین اس شخص پر واجب ہے جس پر اس کا خرچ حالتِ حیات میں واجب تھا، اور اگر وہ شخص بھی نہ ہو یا اس کو تجہیز وتکفین کی استطاعت نہ ہو تو اس کی تجہیزوتکفین بیت المال سے ہو گی اور اگر یت المال منتظم نہ ہو تو اس کی تجہیز وتکفین مسلمانوں پر ہے۔(شریفیہ ودرمختاروغیرہ) [2] اذخر ایک خوشبودار گھاس کا نام ہے جو عرب میں ہوتی ہے۔