کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 278
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے : جو شخص میت کو غسل دے اس کو غسل کرنا چاہیے، اور جو میت کو اٹھائے اس کو وضو کر نا چاہیے۔(ابو داود، ترمذی) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ غسل دینے والے کو غسل کرلینا اور اٹھانے والے کو وضو کر لینا ضروری ہے، مگر اور روایتوں [1] سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم ضروری [1] وہ روایات یہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میت کو غسل دو تو اس کے غسل دینے سے تم پر غسل نہیں ہے، بیشک تمھاری میت پاک مرتی ہے، تجس نہیں ہے۔ پس تم کو کافی ہے کہ اپنے ہاتھوں کو دھولو، اس کو بیہقی نے روایت کیا،حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ تلخیص (ص۵۰)میں لکھتے ہیں کہ اس کی اسناد حسن ہے، پھر لکھتے ہیں کہ’’اس حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یوں تطبیق دی جائے گی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میںغسل کرنے کا حکم استحبابی ہے یا غسل کرنے سے مراد ہاتھوں کو دھو لینا ہے۔ ۲۔ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ میت کو غسل دیتے تھے، پس ہم لوگوں میں سے بعض لوگ غسل کرتے تھے اور بعض لوگ غسل نہیں کرتے تھے ، اس کو خطیب نے روایت کیا۔ حافظ تلخیص (۵۰)میں لکھتے ہیں کہ’’ اس کی اسناد صحیح ہے، اور اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں غسل کرنے کا حکم استحبابی ہے اور ان مختلف حدیثوںں میں جمع وتوفیق کی یہ صورت بہ نسبت اور صورتوں کے بہت اچھی ہے۔‘‘ ۳۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سعید بن زید کے ایک بیٹے کو حنوط لگایا اور اس کو اٹھایا اور جنازے کی نماز پڑھی، اور وضونہیں کیا۔ ۴۔ موطا امام مالک (ص۷۷)میں ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب انتقال فرمایا تو ان کی بیوی اسماء نے ان کو غسل دیا پھر باہر نکلیں اور جتنے مہاجریں وہاں حاضر تھے ان سے چوچھا کہ یہ دن سخت جاڑے کا ہے اور میں روزہ سے ہوں ،کیا مجھ کو غسل کرنا ضروری ہے ؟ سبوں نے کہا کہ نہیں،علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نیل الاوطار (ص۲۲۰ج۱) میں لکھتے ہیں کہ ’’حق یہی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں غسل دینے والے کو غسل کرنے کا حکم استحبابی ہے۔