کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 258
جنائز کے احکام ومسائل احتضار کے وقت سے لے کر دفن تک اس کثرت سے ہیں اور اس قابل ہیں کہ مستقل تصنیف میں جمع کیے جائیں، یہی وجہ ہے کہ محدثین نے اس باب میں کتاب الجنائز کے نام سے مستقل کتابیں لکھی ہیں،ہمارے علم میں( واللہ تعالیٰ اعلم) محدثین میں سے اول اول جس نے اس باب میں مستقل کتاب لکھی وہ محدث عبد الوہاب ابن عطاء الحقاف بصری نزیل بغداد ہیں، آپ بصرہ کے مشاہیر محدثین سے ہیں، فنِ حدیث میں خالد خدّا اور سلیمان تیمی اور سعید بن ابی عروبہ وغیرہم کے شاگرد اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کے استاذ ہیں، اور ابو عمرو بن علا سے جو قراء سبعہ سے ایک مشہور قاری ہیں ،فن قراء ت حاصل کیا ہے ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں اور ابو داود ،ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے اپنے سنن میں آپ کی سند سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ محدث سعید بن ابی عروبہ کی صحبت میں ایک مدت تک تھے۔ ۲۰۴ھ میں وفات پائی، حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی کتاب الجنائز سے فتح الباری میں بعض حدیثیں نقل کی ہیں۔ محدث عبد الوہاب بن عطاء کے بعد علامہ مزنی نے کتاب الجنائز کے نام سے ایک مستقل کتاب تالیف کی ، عون المعبود حاشیہ سنن ابی داود میں اس کتاب کی بعض روایتیں منقول ہیں ،لیکن اصل کتاب سے نہیں، علامہ ممددح ،امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کے ماموں اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور شاگرد ہیں، نام اسماعیل بن یحییٰ ،کنیت ابو ابراہیم، وطن اور مسکن مصر تھا، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی تائید ونصرت میں بہت سی کتابیںتصنیف کیں، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے المزنی تاصر مذھبی جب آپ کتاب مختصر تصنیف کر رہے تھے ، تو جس مسئلہ کی تحقیق سے فارغ ہوتے اور اس کو کتاب میںدرج کرتے تو دو رکعت شکرانہ نماز پڑھتے، نماز باجماعت ادا کرنے کا اتنا الزام واہتمام رہتا تھا کہ جب کوئی نمازجماعت کے ساتھ نہیں ملتی تو اس کو پچیس مرتبہ پڑھتے ، تاکہ جماعت کا ثواب حاصل ہو، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی