کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 253
جواب: بیہقی کی ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کرتے تھے، مگر اس روایت کی سند ضعیف ہے،کیونکہ اس میں ابن لہعیہ واقع ہیں جن کا ضعیف ناقابلِ احتجاج ہونا مشہور ہے۔ تلخیص الجیر (ص۱۴۵) میں ہے۔ قولہ عن عمرانہ کان یرفع یدیہ فی التکبیرات رواہ البیہقی وفیہ ابن لھیعۃ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کرتے تھے، روایت کیا اس کو بیہقی نے اور اس کی سند میں ابن لہیعہ ہیں۔ اور علامہ ابن القیم زاد المعاد میں لکھتے ہیں۔ وکان ابن عمر مع تحریہ لا تباع یرفع یدیہ مع کل تکبیرۃ یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہ باوجود اس کے کہ وہ اتباعِ سنت کا بہت خیال رکھتے تھے عیدین کی ہر تکبیر میں رفع الیدین کیا کرتے تھے،مگر علامہ ممدوح نے نہ اس اثر کی سند لکھی ہے اور نہ اس کے مخرج کا نام بتایا ہے اور ہم کو باوجود تلاش کے نہ اس کی سند معلوم ہوئی اور نہ اس کے مخرج کا پتا لگا پس معلوم نہیں کہ اس اثر کی سند کیسی ہے صحیح ہے یا ضعیف واللہ تعالیٰ اعلم اور علامہ شیخ منصور ابن ادریس حنبلی کشاف القناع میں لکھتے ہیں۔ عن عمرانہ کان یرفع یدیہ فی کل تکبیرۃۃ فی الجنازۃ والعیدین عن زید کذلک رواھما الاثرم یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جنازہ اور عید کی ہر تکبیر میں رفع الیدین کرتے تھے اور زید سے بھی اس طرح مروی ہے ان دونوں راویتوں کو اثرم نے روایت کیا ہے۔ مگر علامہ شیخ منصور نے ان دونوں اثروں کی سند نقل نہیں کی۔ پس معلوم نہیں کہ ان دونوں اثروں کی سند کیسی ہے۔ الحاصل: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اثر جس کو بیہقی اور اثرم نے روایت کیا ہے اس کی سند کا