کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 196
پر عمل درآمد تھا۔ اور جب ابو سماعیل نے حماد بن زید کو دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا تو ان کو یہ ایک نئی بات معلوم ہوئی۔ اس وجہ سے لوگوں کو اس کی خبر دی ۔ اس تقدیر پر اس خبر کا مفید ہونا ظاہر ہے اور لفظ’’کلتا‘‘ کے بڑھانے کا بھی فائدہ اس تقدیر پر مخفی نہیں ہے۔ فتدبر چھٹی دلیل وہی مستدل صاحب لکھتے ہیں کہ فقہاء بالاتفاق دونوں ہاتھ سے مصافحہ کو سنت لکھتے ہیں۔ چنانچہ مجالس الابرار میں ہے۔ والسنۃ فیھا ان تکون بکلتا الیدین۔ اور قنیہ میں ہے۔ السنۃ فیھا ان ینع یدیہ علی یدیہ من غیر حائل من ثوب اوغیرہ۔ اور در مختار میں ہے۔ والسنۃ ان تکون بکلتا یدیہ اور شیخ عبد الحق اشعۃ اللمعات میں لکھتے ہیں۔ ’’ومصافحہ سنت است وباید کہ بہر دو دستت بود‘‘ جب کہ تمام فقہاء دو ہی ہاتھ سے مصافحہ کو مسنون لکھتے ہیں۔ اور کوئی حدیث ایک ہاتھ کے مصافحہ کی مخالفین پیش نہیں کر سکتے تو خواہ مخواہ اقوالِ فقہاء کو چھوڑ دینا بجز نفس پر ستی کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ جواب مستدل کا یہ لکھنا کہ فقہائِ کرام بالاتفاق دونوں ہاتھ سے مصافحہ کو سنت لکھتے ہیں۔اور پھر یہ لکھنا