کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 184
ذلک فی غیرہ ندل علی مزید الاعتناء والا ھتمام بہ انتھٰی ۔ (ص۴۲۱ج۱) حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ درایہ میں لکھتے ہیں۔ واما تاکید التعلیم ففی تشھد ابن عباس ایضا عند مسلم فسلم للمصنف اثنان وبقی اثنان الا ان یرید بتاکید التعلیم قولہ کفی بین کفیہ ۔ فھی زائدۃ لہ انتھٰی۔(ص۸۸) اور کفایہ حاشیہ ہدایہ میں ہے۔ وتاکید التعلیم فانہ روی عن محمد بن الحسن انہ قال اخذ ابو یوسف بیدی وعلمنی التشھد وقال اخذ ابو حنفیہ بیدی فعلمنی التشھد وقال ابو حنیفۃ اخذ حماد بیدی وعلمنی التشھد وقال حماد اخذ علقمۃ بیدی وعلمنی التشھد وقال علقمۃ اخذ ابن مسعود بیدی وعلمنی التشھد وقال ابن مسعود اخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدی وعلمنی التشھد الخ (ص۵۹ج۱) ان عبارات سے صاف واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے کف کو اپنے دونوں کفوں میں پکڑنا مزید اہتمام تعلیم کے لیے تھا اورر علی سبیل المصافحہ نہیں تھا۔ اور ہاں واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر تعلیم کرنا متعدد احادیث سے ثابت ہے۔ ازاں جملہ مسند احمد بن حنبل کی ایک یہ روایت ہے۔ حدثنا عبد اللہ حدثنی ابی ثنا(سمعیل ثنا سلیمن بن المغیرۃ عن حمید بن ھلال عن ابی قتادۃ وابی الدھماء قالا کانا یکثران السفر نحوھذا البیت قال اتینا علی رجل من اھل البادیۃ فقال البدوی اخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدے فجعل یعلمنی مماعلمہ اللہ تبارک وتعالیٰ انک لن تدع شیئا اتقاء اللہ جل واعز