کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 119
اسی روایت پر ابن حبان نے جزم کیا ہے اس روایت سے بھی بنی سالم کی تصدیق وتصحیح ظاہر ہے۔ اور یہ بھی واضح رہے۔کہ بنی سالم میں جمعہ پڑھنے کی روایت ایک ایسی راویت ہے کہ اس پر تمام اہلِ سیر کا اتفاق ہے۔ پس بخاری کی دو ایسی روائیوں کو چھوڑ کر جن سے اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے۔ خواہ مخواہ بخاری کی ایک ایسی روایت اختیار کرنا جس سے اس روایت کا ضعف ثابت ہو مولانا شوق کے علم وانصاف کی کامل دلیل ہے۔ قال : اور برتقدیر تسلیم محلہ بنی سالم مدینہ طیبہ کا ایک محلہ ہے۔ جو مدینہ کے قریب واقع ہے۔ اقول: محض غلط موضع بنی سالم مدینہ کا محلہ نہیں ہے،بلکہ قبا اور مدینہ کے درمیان ایک گاؤں ہے ۔جو مدینہ سے ایک میل کے فاصلہ پر ہے۔ قال : اور فنائے شہر حکم شہر میں ہے۔ اقول:اولاً: پہلے تو آپ نے بنی سالم کو مدینہ کا ایک محلہ قرا ر دیا ۔ پھر اس کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ فنائے شہر حکم شہر میں ہے۔ پس اس سے ثابت ہوگیا کہ آپ کو ابھی تک محلہ شہر اور فنائے شہر میں فرق نہیں معلوم ہے۔ ثانیاً: آپ کی دلیل کی تقریر عربی میں اس طرح ہوئی۔ بنو سالم محلۃ من المدینہ وکل فناء المصر فی حکمہ فی جواز صلوۃ الجمعۃ۔اور اس کا نتیجہ آپ نے یہ نکالا ہے۔ فبنو سالم فی حکمہ المدینۃ فی جواز صلوۃ الجمعۃ ظاہر ہے کہ شکل اول کا یہ ضرب اول ہے۔ فرمائیے اس میں حداوسط کا تکرار کہاں ہے۔ ثالثاً: فقہاء کا یہ قول کہ فنائے شہر حکم شہرمیں ہے اثر علی رضی الله عنہ لا تشریق ولا جمعۃ الا فی مصر جامع سے باطل ہے ۔ اس واسطے کہ اس اثر سے ظاہر یہی ہے کہ شہر کے سوا کسی گاؤں میں جمعہ جائز نہیں۔ شہر کے قریب ہو خوداہ بعید۔ قال: ابو داود وابن ماجہ وغیرہ سے ثابت ہے کہ اسعد رضی الله عنہ بن زرارہ نے قبلِ ہجرت ہزم النبیت میں جو مدینہ سے ایک کوس کے فاصلہ پر حرہ بنی بیاضہ میں واقع ہے۔ ہمراہ جماعت صحابہ رضی الله عنہم نمازِ جمعہ پڑھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہے۔ کہ ان