کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 101
پہلا جواب جواثا میں جمعہ قائم ہونے کے پہلے بجز اہلِ عوالی کے کسی اور قریہ کے لوگ مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے۔ پھر مسجد نبوی کے سوا کسی اور مقام میں جمعہ قائم کیسے ہو تا ۔ رہے قبا اور دیگر عوالی کے لوگ سوان میں جتنے مکلف بالجمعہ تھے وہ سب کے سب مسجد نبوی میں ہر جمعہ کو نمازِ جمعہ کے واسطے حاضر ہو اکرتے تھے۔ ان کو اسی کا حکم تھا۔ کما تحقیقھ پس قبا یا کسی اور عالیہ میں جمعہ قائم ہونے کی کیا صورت تھی۔ تنبیہ جناب مؤلف لکھتے ہیں کہ’’ہر چند اتنی مدت میں(یعنی ہجرت سے جواثا میں جمعہ قائم ہونے تک) سینکڑوں اہلِ عوالی وقریٰ مسلمان ہو چکے تھے۔ انتہٰی میں کہتا ہوں۔ کہ اہلِ عوالی کا اتنی مدت میں مسلمان ہونا تو ظاہر ہے۔ باقی اور اہلِ قریٰ کا مسلمان ہونا اتنی مدت میں ہر گز ثابت نہیں ہے،بلکہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے صاف تصریح کی ہے کہ قبیلہ عبد القیس کا اسلام تمام اہلِ قریٰ کے اسلام پر سابق ہے۔ چنانچہ حدیث وفد عبد القیس کے تحت(ص۶۹) میں لکھتے ہیں۔ وفیہ دلیل علی نقدم اسلام عبد القیس علی قبائل مضر الذین کانوا بینھم وبین المدینۃ وکانت مساکن عبد القیس بالجحرین وما والا ھا من اطراف العراق ولھذا قالو ا کما فی روایۃ شعبۃ عند المؤلف فی العلم وانا ناتیک من شفۃ بعید ۃ قال ابن قتیبۃ الشقۃ السفر و قال الزجاج ھی الغایۃ التی تقصد ویدل علی سبقھم الی الاسلام ایضامارواہ المصنف فی الجمعۃ من طریق ابی جمرۃ ایضا عن ابن عبا س رضی اللہ عنہ قال ان اول