کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 683
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مصراۃ کے متعلق حدیث ان حضرات کی نظر میں آ گئی، [1] ورنہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار کی تلاش میں حجاز کے پہاڑ چھان مارتے، نماز کی جگہوں کے ساتھ پیشاب کے مواقع کا بھی تتبع فرماتے، ان کی فقہ پر کوئی حرف نہیں آیا، حالانکہ یہ مواقع نہ عبادات تھے نہ عادات، بلکہ محض اتفاقات تھے، لیکن ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیچارے حدیث مصراۃ کی وجہ سے ہر اصول فقہ کے طالب علم کی زبان پر ان کے غیر فقیہ ہونے کا وظیفہ جاری ہے۔ [2] وليس ذلك إلا من آفات التقليد والجمود! فقہ راوی کی شرط اور اکابر حنفیہ: ہمارے مدارس کا یہ حال ہے کہ وہ فقہ راوی کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں، جیسے کسی آیت کا مفہوم بیان فرما رہے ہیں یا کوئی متواتر حدیث، حالانکہ قدماء احناف کے ہاں اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔ وہ نقد روایت یا ترجیح میں اس شرط کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتے۔ ’’اصول بزدوی‘‘ میں فقہ راوی کا ذکر فرماتے ہوئے مثال کے طور پر دو غیر فقیہ بزرگوں کا تذکرہ فرمایا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت
[1] ’’حدیث مصراۃ‘‘ سے مراد وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اونٹ اور بکری کا دودھ روک کر مت بیچا کرو۔ جس شخص نے ایسا جانور خرید لیا، وہ دو چیزوں میں مختار ہے۔ اگر اسے وہ جانور پسند آ جائے، تو اپنے پاس رکھ لے اور اگر اسے وہ جانور پسند نہ آئے، تو واپس کر دے اور واپس کرتے ہوئے اس جانور کے ساتھ کھجور کا ایک صاع بھی ادا کرے۔ (صحيح البخاري، برقم 2041، 2043) صحيح مسلم، برقم (1518) ’’مصراة‘‘ ایسے دودھ دینے والے جانور کو کہا جاتا ہے، جسے فروخت کرنے سے چند دن قبل دھویا نہیں جاتا اور اس کا دودھ نہیں نکالا جاتا، تاکہ فروخت کے وقت اس کی قیمت بڑھ سکے۔ [2] چنانچہ قاضی ابو طیب طبری اسی طرح کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم جامع منصور میں بیٹھے ہوئے تھے کہ خراسان کا ایک حنفی نوجوان آیا اور اس نے مصراۃ (دودھ روکا ہوا جانور) کے بارے میں سوال کیا اور دلیل کا بھی مطالبہ کیا۔ جواب دینے والے نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مصراۃ کے بارے میں حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اسے جواب دیا، تو وہ حنفی نوجوان کہنے لگا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تو حدیث مقبول نہیں ہوتی! قاضی ابو طیب کہتے ہیں کہ ابھی اس نے اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ مسجد کی چھت سے ایک بہت بڑا سانپ گرا، جسے دیکھ کر لوگ بھاگ گئے اور وہ نوجوان بھی بھاگ گیا۔ سانپ بھی اس نوجوان کے پیچھے بھاگنے لگا، تو لوگوں نے اسے کہا: توبہ کر لو! توبہ کر لو! چنانچہ اس نوجوان نے کہا: میں توبہ کرتا ہوں، تو سانپ غائب ہو گیا اور اس کا کوئی نام و نشان نظر نہ آیا۔ (المنتظم لابن الجوزي: 9/155، تاريخ الإسلام للذهبي: 4/354، سير أعلام النبلاء : 2/619) حافظ ذہبی رحمہ اللہ اس واقعہ کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’إسنادها أئمة‘‘ یعنی اس سند کے رواۃ سبھی امام ہیں۔