کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 682
’’أخبرت عن يحييٰ بن أيوب قال: كنت أسمع الناس يتكلمون في المريسي فكرهت أن أقدم عليه حتي أسمع كلامه لأقول فيه بعلم فأتيته فإذا هو يكثر الصلوة علي عيسيٰ بن مريم عليه السلام فقلت له: إنك تكثر الصلاة علي عيسيٰ فأهل ذلك هو، ولا أراك تصلي علي نبينا و نبينا أفضل منه؟ فقال لي: ذلك كان مشغولا بالمِرآة والمشط والنساء‘‘ (1/30)
یعنی یحییٰ بن ایوب فرماتے ہیں: یہ لوگ بشر مریسی کے متعلق باتیں کرتے تھے، میں نے ذاتی علم کے بغیر کوئی اقدام مناسب نہ سمجھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ حضرت مسیح پر بہت درود پڑھتا تھا۔ میں نے کہا، حضرت مسیح بے شک درود کے اہل ہیں، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے افضل ہیں۔ اس نے کہا: وہ شیشیہ، کنگھی اور عورتوں ہی میں مشغول رہتے تھے۔
بشر کی زندقت کا تذکرہ الفوائد البهية (ص: 26) اور الجواهر المضيئة (1/164) میں بھی مرقوم ہے، اور اسی طرح ميزان الاعتدال (1/150) میں ہے:
’’بشر بن غياث المريسي مبتدع ضال لا ينبغي أن يروي عنه، تفقه علي أبي يوسف فبرع و أتقن علم الكلام، ثم جرد القول بخلق القرآن، وقال قتيبة: بشر المريسي كافر‘‘
یعنی بشر مریسی بدعتی گمراہ ہے، اس سے روایت درست نہیں۔ امام ابو یوسف سے فقہ پڑھی، مہارت کے بعد خلق قرآن کا قائل ہو گیا۔ قتیبہ فرماتے ہیں وہ کافر ہے۔
قاضی بشر بن ولید کندی خلیفہ معتصم باللہ کی طرف سے قاضی مقرر ہوئے، آخر میں خلق قرآن کے مسئلہ میں توقف کرنے لگے۔ (ميزان الاعتدال: 1/152)
حالانکہ اکابر اہل سنت اس وقتت جیل خانوں میں تھے۔ قاضی عیسیٰ بن ابان نے فقہ راوی کو اچھالا اور احادیث میں ترجیح کی اس شرط سے بے حد کام لیا۔ روایت بالمعنی سے پیدا ہونے والے خطرات سے بچنے کے لیے جو اصل وضع فرمایا گیا، وہ خود ایک مستقل خطرہ بن گیا اور ان اعتزال پسند فقہاء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق اور ان کی بہت سی مرویات کو ذبح کر کے رکھ دیا۔