کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 673
اور ((ادْرَؤوا الحدودَ بالشبهاتِ)) کی بنا پر بحث کرنا، اس میں ہمیں تو تفقہ سمجھ میں نہیں آتا۔ (قاضی خان: 1/324)
(6) خمر کے متعلق جس وسعت سے فقہ حنفی نے پرمٹ دیے ہیں اور خمر کی مختلف اقسام کے احکام جس حوصلہ مندی سے نافذ فرمائے، اس سے حدیث ((يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا)) [1]کی تصدیق ہوتی ہے، مگر تفقہ فی الدین کا اس سے ثبوت نہیں ملتا۔ عام حلال و حرام میں احتیاط کے لحاظ سے احناف خاصے نیک نام تھے، لیکن یہ نیک نامی اور احتیاط شراب میں قائم نہیں رہ سکی، بلکہ اہل علم میں غیر محتاط روش کی نظیر بن گئی۔
(7) نکاح حلالہ کو ناجائز اور حرام سمجھنے کے باوجود یہ فتویٰ کہ اس سے پہلے خاوند کے لیے بیوی حلال ہو جائے گی، [2] غایت درجہ کی سطحیت ہے۔ اس کی تائید نہ روایت سے ہوتی ہے اور نہ درایت سے، اس تاویلی زنا کا جواز تقلید ہی کی بنا پر ہو سکتا ہے!!
اس قسم کی سینکڑوں جزئیات مروجہ فقہ کے دفاتر میں موجود ہیں، جو عقل و شعور کے دامن کو بڑے زور سے جھنجھوڑتی ہیں۔ بجر تقلید اور عصبیت کے ان کے قبول کے لیے ذہن آمادہ نہیں ہوتا۔
ان گزارشات کا یہ مطلب نہیں کہ فقہ حنفی کے سارے مسائل سطحی اور عدم احتیاط پر مبنی ہیں، بلکہ بعض مقامات میں انتہائی تفقہ اور گہرائی سے کام لیا گیا ہے اور بڑی محتاط روش اختیار فرمائی گئی ہے، اس لیے دور اندیش اور محقق علماء کی رائے ہے کہ ان مروجہ مسالک سے کسی مسلک کے ساتھ کلی وابستگی نہیں رکھنی چاہیے، ’’خذ ما صفا ودع ما كدر‘‘[3]پر عمل ہونا چاہیے۔ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’كما أن المكيين والكوفيين لا يجوز تقليدهم في مسئلة المتعة والصرف والنبيذ، ولا يجوز تقليد بعض المدنيين في مسئلة الحشوش و إتيان النساء في أدبارهن، بل عند فقهاء المحدثين أن من شرب النبيذ
[1] سنن أبي داود (3688) سنن النسائي (5258) سنن ابن ماجه (4020) اس کی سند کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’جید‘‘ قرار دیا ہے۔ (فتح الباري: 10/51) نیز اسے امام حاکم، ذہبی اور البانی رحمہم اللہ نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’رجاله ثقات‘‘ (مجمع الزوائد: 5/83)
[2] الهداية (ص: 257)
[3] صاف ستھری چیز کو پکڑو اور پراگندہ چیز کو چھوڑ دو۔