کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 672
درایت نہیں پائی گئی۔ بعض آثار میں گندے کوڑے کرکٹ کو کنویں کے منہ سے دس ہاتھ دور رکھنے کی ہدایت سے مقدار کا تعین اور پانی جیسی سیال چیز کو اس پر قیاس کرنا، اس میں کون سی فقہ ہے؟ شوافع کا استدلال اس سے بہت بہتر ہے۔ (2) پھر کنویں کے پانی کی مقدار کو بالکل ہی نظر انداز کر دینا اور بعض غیر مستند آثار پر اس کی بنیاد رکھنا بالکل ظاہریت ہے۔ کنویں کے پانی کے لیے عشرفی عشر کا اندازہ ملحوظ رکھ لیا جاتا، تو بھی مقدار میں اجمال بلکہ اہمال ہوتا، لیکن مسئلہ اس قدر بے تُک نہ ہوتا۔ (قاضی خاں: 1/7، شامی: 1/117) (3) موطوءہ لونڈی سے اثبات نسب کے لیے دعویٰ کی ضرورت پر زور اور مشرق، مغرب میں کسی عورت سے نکاح کرنے اور ملاقات کے متعلق یقین ہو کہ نہیں، تو بھی نسبت ثابت ہو جائے گی۔ (شامی: 2/974) یہ درایت کی کون سے قسم ہے؟ اور پھر اس پر حدیث ’’الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ‘‘[1]سے استدلال بڑی شنیع قسم کی ظاہریت ہے۔ ابن حزم رحمہ اللہ کی ظاہریت بھی اس کے سامنے سرنگوں ہو گئی! (4) ذکوان مولیٰ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قرآن کریم دیکھ کر امامت کراتے تھے۔[2] اسے عمل کثیر کی وجہ سے ناپسند کیا اور نماز کو فاسد قرار دیا گیا، [3] لیکن عورت کے اندام نہانی کو غلط انداز سے دیکھے، تو نماز میں کوئی خلل نہ ہو گا۔ (قاضی خان: 1/111) یہ کہاں کا تفقہ ہے؟ ان جزئیات کو پوری عقیدت سے قبول فرما کر محدثین کو عطّار کہنا دانشمندانہ انداز فکر نہیں۔ (5) محرمات ابدیہ سے نکاح کے بعد منہ کالا کرنے کے بعد شبہ فی المحل کی بنا پر اسے حد سے بچانا
[1] صحيح البخاري: كتاب البيوع، باب تفسير الشبهات، رقم الحديث (1948) صحيح مسلم: كتاب الرضاع، باب الولد للفراش والتوقي الشبهات، رقم الحديث (1457) [2] صحيح البخاري (2/185، مع الف تح) امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ اثر تعليقاً مجزوماً به ذکر کیا ہے، لیکن امام ابن ابی شیبہ (2/123) اور امام بیہقی رحمہ اللہ (2/253) نے اسے موصولاً بیان کیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’هو أثر صحيح‘‘ دیکھیں: تغليق التعليق (2/291) [3] بدائع الصںائع للكاساني (1/543)