کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 664
((ألا انبئكم بالفقيه كل الفقيه؟ قالوا: بلٰي۔ قال: من لم يقنط الناس من رحمة اللّٰه ، ولم يؤيسهم من روح اللّٰه ، ولم يؤمنهم من مكر اللّٰه ، ولا يدع القرآن رغبة عنه إلي ما سواه، ألا لا خير في عبادة ليس فيها تفقه ۔۔ الخ)) (جامع، ص: 44) [1]
یعنی فرمایا: ’’میں تمہیں بتا دوں سب سے بڑا فقیہ کون ہے؟ صحابہ نے فرمایا: ضرور بتائیے۔ فرمایا: جو آدمی لوگوں کو اللہ کی رحمت سے نا امید نہ کرے اور اللہ کی تدبیر سے عوام کو بے خوف نہ کرے، قرآن سے نفرت اور ماسوا کی طرف توجہ نہ کرے، عبادت بلا تفقہ عبث ہے۔‘‘
ابن عبدالبر نے ’’جامع بيان العلم‘‘ (ص: 43 تا 49) میں لفظ فقہ کے مفہوم کا تذکرہ بڑے بسط سے فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا ارشاد گرامی ہے:
((رُبَّ حاملِ فِقهٍ ، غيرُ فَقيهٍ ، وربَّ حاملِ فِقهٍ إلى من هوَ أفقَهُ منهُ)) [2]
ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’فسمي الحديث فقها مطلقا و علما‘‘ (جامع، ص: 27) [3]
’’اس میں حدیث کو فقہ سے تعبیر فرمایا ہے۔‘‘
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[1] حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ اس اثر کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’لا يأتي هذا الحديث مرفوعاً إلا من هذا الوجه، و أكثرهم يوقفونه علي علي رضي اللّٰه عنه‘‘ یہ حدیث صرف اس سند سے مرفوع آتی ہے اور اکثر رواۃ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بیان کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کی مرفوع سند میں ’’إسحاق بن أسيد‘‘ راوی ہے، جس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فيه ضعيف‘‘ (تقريب التهذيب: 100)
[2] سنن أبي داود (3660) سنن الترمذي (2656) سنن ابن ماجه (230) اس حدیث کو امام ترمذی اور حافظ منذری نے ’’حسن‘‘ اور امام ابن حبان، مقدسی، عراقی اور البانی رحمہم اللہ نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔ امام سیوطی اور بعض دیگر اہل علم نے اسے متواتر احادیث میں شمار کیا ہے۔ دیکھیں: كشف الخفاء للعجلوني، برقم (2813) نظم المتناثر (ص: 14)
[3] جامع بيان العلم(2/61)