کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 653
[1]
[1] الطاهرة عقائدهم من شوائب الأباطيل، و شوائب البدع والأهواء الفاسدة، وهي المعروفة بأنها أصحاب الحديث، وهم فرقتان: فرقة منها أهل النقل والرواية الذين تشتد عنايتهم بنقل في السنن، و تتوفر دواعيهم علي تحصيل طرقها، وحصر أسانيدها والتمييز بين صحيحها و سقيمها، ويغلب عليهم ذلك و يعرفون به و ينسبون إليه۔
’’وفرقة منها يغلب عليهم تحقيق طرق النظر والمقاييس، والإبانة عن ترتيب الفروع علي الأصول، ونفي شبه المبلسين عنها، وإيضاح وجوه الحجج والبراهين علي حقائقها‘‘
’’والفرقة الأوليٰ كالخزانة للملك، والفرقة الأخريٰ كالبطارقة التي تذب عن خزائن الملك المعترض عليها والمتعرضين لها‘‘ 1ھ (مشكل الحديث لابن فورك، ص: 3)
’”مؤولین اور ملحدین نے اس گروہ کی عیب جوئی زبان اور بیان سے پورے قہر اور تکبر سے شروع کر دی، جو ہمیشہ سے حق کا حامی رہا ہے۔ ان کے عقائد اباطیل اور بدعات سے پاک ہیں، یہ گروہ اصحاب الحدیث کے نام سے مشہور ہے، اس جماعت کے دو حصے ہیں:
’’ایک حصہ نے نقل روایت اور ترویج سنن کا ذمہ لے لیا ہے، ان کی توجہ طرق احادیث اور اسانید کے حصر اور جمع کی طرف ہے اور صحیح اور سقیم میں تمیز کے ماہر ہیں۔ ان کا یہی مشغلہ ہے، جس کی طرف وہ منسوب ہیں اور دوسرے گروہ کا مشغلہ نظر و فکر کی تحقیق اور قیاسات کی صحت اور فروع کی ترتیب اصول کی روشنی میں اور وساوس اور شبہات کا دفعیہ اور حجج و براہین کی تحقیق اور توضیح ہے۔
’’پہلا گروہ گویا حکومت کا خزانہ ہے اور ادلہ شرعیہ کے نقود ان کی تحویل میں ہیں اور دوسرا گروہ ان فوجی افسروں کی طرح ہے، جو اپنے خزانوں کی حفاظت کے سلسلے میں ہر وقت گوش بر آواز ہے کہ نہ ان خزائن کو کوئی نقصان پہنچ سکے، نہ ہی ان کی طرف کوئی نظر اٹھا کر دیکھ سکے۔‘‘
گویا عمل کے لحاظ سے اہلحدیث کے فرائض تین حصص میں منقسم ہیں۔ احادیث اور سنن کی حفاظت بلحاظ روایت اور عقائد سنت پر مؤولین اور ملحدین کے شبہات کی دیکھ بھال کرنا اور فقہی فروع کو قیاس صحیح اور اصولی قواعد پر پیش کر کے اس طریق پر سنت کی حفاظت کرنا کہ نظر و قیاس کی طغیانیاں کتاب و سنت کی نصوص کو کہیں بہانہ لے جائیں۔ گویا فن روایات، علم کلام، فقہ اور اصول فقہ، مناظرہ اور ان کے لوازم، تمام فنون ان کی جولان گاہ ہیں۔ ائمہ حدیث اور سنت کے عساکر ان تمام میدانوں میں حسب ضرورت نقل و حرکت میں مشغول ہیں۔ شوافع، موالک اور حنابلہ کو علی الاطلاق اہلحدیث سمجھنا بالکل سطحی نظریہ ہے، جو جامد تقلید کے شیوع اور عروج کے بعد وضع کیا گیا۔
ورنہ اہلحدیث یا اصحاب الحدیث ایک ایسا مکتب فکر ہے، جس نے تدوین سنت کے علاوہ دین کے ہر محاذ پر اپنے فرائض پوری ذمہ داری سے ادا کیے ہیں۔ میں نے اس لفظ کے مفہوم، اس کے تاریخی تذکار اور اس کے مختلف مناہج پر خدمات کا تذکرہ بقدر ضرورت سابقہ گزارشات میں کر دیا تھا، غالباً آنے والی اقساط میں جناب ملاحظہ فرمائیں گے۔ ---