کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 652
[1]
[1] لیے ہوتے ہیں، ان کا مقام تعریفات میں فوائد و قیود کی طرح ہوتا ہے۔ اختلاف فروع میں ہو یا اصول میں، ان کے لیے عنوان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصل نام تو اسلام ہے، صحابہ کے مقام کے متعلق جب خوارج اور روافض نے غلو کی راہ اختیار کی، تو ان میں اعتدال کی راہ کا نام اہل سنت متعین ہو گیا۔ اسی طرح جب فقہی جمود اور تقلید ائمہ میں غلو کی صورت اختیار کی گئی، تو اعتدال اور حریت فکر کی راہ کا نام ’’اہل حدیث‘‘ یا ’’اصحاب الحدیث‘‘ قرار پایا۔ صحابہ میں جب فتنوں کا دور شروع ہوا، تو لوگوں نے ’’عثمانی‘‘ یا ’’علوی‘‘ کے نام اپنے طبعی رجحان کے لیے بطور عنوان مقرر کیے، تو بعض صحابہ نے اس غلو سے بچنے کے لیے اپنے لیے ’’محمدی‘‘ کا عنوان مقرر کیا۔ (أبو داود: 4749) مولانا جعفری سے زیادہ کون جانتا ہو گا کہ ائمہ اربعہ کے دورِ امامت کا آغاز تو کہیں دوسری صدی کے اواخر میں ہوتا ہے، اس سے پہلے لوگ صحابہ اور تابعین کی موجودگی میں اہل علم کی اقتداء بلا تعیین کرتے تھے اور اشخاص کی بجائے ان کی نظر دلائل پر ہوتی تھی، غیر معلوم مسائل میں اپنے اپنے وقت کے اہل علم کی طرف رجوع کرتے تھے، اسی طریق کو اس جمود کے بالمقابل اصحاب الحدیث کے عنوان سے تعبیر کیا گیا۔ حدیث ((لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ)) (بخاري: 6881) کی تشریح میں سفیان بن عیینہ نے اس طائفہ کا نام ’’اصحاب الحدیث‘‘ رکھا ہے۔ حافظ خطیب بغدادی کی کتاب ’’شرف أصحاب الحديث‘‘ اور ابن قتیبہ کی کتاب ’’تأويل مختلف الحديث في الرد علي أعداء أهل الحديث‘‘ اسی مکتب فکر کی غماز ہیں۔ ابتدائی صدیوں میں اس مکتب فکر کے تمام بزرگ فن حدیث کے خادم تھے، اس لیے ان میں خدمت مکتب فکر اور خدمتِ فن بیک وقت جمع ہوئے اور عموماً جمع ہی رہے، اس لیے دونوں کے لحاظ سے یہ عنوان ان حضرات پر منطبق ہو گیا۔ اس سے بعض ظاہرین حضرات کو مغالطہ ہوا کہ یہ عنوان صرف خدمت فن سے مخصوص ہے، حالانکہ یہ مکتب فکر بھی ہے۔ اہلحدیث حضرات پر چونکہ فقہی جمود کا وقت کبھی نہیں آیا، خدمت فن اور حریت فکر ان میں عموماً جمع رہی اور فقہی مسائل میں ان کا تعلق تمام مشہور مکاتب فکر سے برابر رہا، یہ حضرات سب کے ہونے کے باوجود کبھی کسی کے دامن سے وابستہ نہیں رہے۔ ایسے لوگوں کا صحیح عنوان ’’اہلحدیث‘‘ یا ’’اصحاب الحدیث‘‘ ہی ہو سکتا ہے، جس کا تذکرہ تقریباً دوسری صدی کے ابتدا ہی سے شروع ہو گیا۔ رجال کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاً یہی مکتب فکر تھا، چنانچہ ربیع بن صبیح اسی فکر کے داعی تھے، جو عہد بنو امیہ میں ہندوستان تشریف لائے۔ محمد بن قاسم کے ساتھ جو لشکر ساحل دیبل پر وارد ہوا، ان کا تعلق اسی مکتب فکر سے تھا۔ یہی لوگ فتوحاتِ سندھ کے ہیرو اور پیشرو تھے، کیونکہ ائمہ اربعہ کے مکاتب فکر کا تو اس وقت کوئی اتہ پتہ ہی نہیں تھا۔ خباب بن فضال، اسرائیل بن موسیٰ اور ابو معشر بن نجیح سندھی کے نام ہندوستان کے اہلحدیث کی صف اول میں لیے جا سکتے ہیں۔ ابوبکر محمد بن حسن فورک (406ھ) ائمہ تاویل کے ذکر میں فرماتے ہیں: ’’وخصوا بتقبيح ذلك الطائفة التي هي الظاهرة بالحق لسانا و بياناً وقهرا و علواً و إمكانا، ---