کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 651
[1]
[1] کی جلالت قدر کے پیش نظر لفظ غلط کہا جا سکتا ہے۔ لیکن نقل روایت پر کسی کو مطعون نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور حقیقت یہ ہے کہ ان روایات سے مشاہیر ائمہ کی رفعتوں میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اس قسم کا مواد ابن عبدالبر کی کتاب جامع بیان العلم، خطیب کی تاریخ بغداد، امام نسائی کی ضعفاء وغیرہ میں موجود ہے۔ بعض دوسرے اہل علم کے متعلق بھی بعض نقول ملتی ہیں۔ ان روایات پر فنی بحث کی جا سکتی ہے، لیکن نقل روایت پر احتساب نہیں کیا جا سکتا۔ لأن العلم أمانة! مولانا جعفری کے ارشادات سے پورا پورا اتفاق کرتا ہوں کہ قول پر نظر ہونی چاہیے، قائل کوئی بھی کیوں نہ ہو۔ اسلام کی خاطر افراد کو خواہ وہ کتنے ہی جلیل القدر کیوں نہ ہوں، نظر انداز کیا جا سکتا ہے، یقیناً ائمہ سے عقیدت اسلام کی ترجمانی ہی کی بنا پر ہے۔ ’’اصل مقصد بہرکیف اسلام ہے‘‘ اس جرم کی سزا بے چارے اہل حدیث صدیوں سے برداشت کر رہے ہیں۔ غرض اس مقالہ میں نہ ان مسائل کی تحقیق ہی مقصد ہے، نہ امام شافعی رحمہ اللہ کی حمایت، نہ کوئی ’’نالہ جانکاہ‘‘ مطلوب، آپ نے امام شافعی رحمہ اللہ کے قول ’’عمداً متروك التسمية‘‘ کو وزنی فرمایا ہے، میرا رجحان یہ نہیں، البتہ جمہور کے بوجھ سے بچ کر احادیث کی روشنی میں امہات الأولاد کا مسئلہ سوچنے کے قابل ہے، وہ بھی محض علمی طور پر، اگر علماء میں تلخ نوائی چل نکلنے کی وجہ سے آپ اسے جائز قرار دیتے ہیں، تو آپ کو حق ہے، لیکن ادباً گزارش ہے کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ اہل حدیث اور اس کا مفہوم: رہا اہلحدیث کے متعلق آپ کا فرمان، تو اس کے بارہ میں عرض ہے کہ لفظ اہلحدیث فن حدیث کے خدام پر ہی بولا جاتا ہے، اس لحاظ سے اہلحدیث اور محدث مرادف ہیں: ’’والمحدث من يشتغل بالسنة النبوية‘‘ (شرح نخبه لابن حجر) یہ خدمت تو ظاہر ہے کہ اہل سنت کے تمام مکاتب فکر نے انجام دی ہے۔ احناف، شوافع، حنابلہ، موالک، یہ سب حضرات سنت کو حجت مانتے ہیں، اس لیے قدرتی بات ہے کہ وہ سنت کی خدمت کریں گے۔ حافظ طحاوی رحمہ اللہ، علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ، شیخ الاسلام نابلسی رحمہ اللہ، علامہ ترکمانی رحمہ اللہ اور حافظ زیلعی رحمہ اللہ کی فنی خدمات کو کون نظر انداز کر سکتا ہے؟ اس معنیٰ سے یہ لوگ اہلحدیث بھی ہیں اور محدث بھی۔ ممکن ہے اس میں قلت و کثرت کا فرق ہو، بعض اتباعِ ائمہ نے دوسرے بعض سے حدیث کی طرف کم توجہ دی ہو، احناف کے متعلق شوافع اور موالک کا رجحان یہی معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ فیصلہ کرنا ائمہ رجال یا ائمہ تاریخ کا کام ہے۔ جعفری صاحب کے ارشاد کے پیشِ نظر یہی کہا جا سکتا ہے کہ اہل سنت کے تمام مسالک فکر سے جن اہل علم نے حدیث کی خدمت بلحاظ فن کی ہے، وہ سب اہلحدیث ہیں، لیکن حریت فکر اور فکری جمود سے اجتناب کے لحاظ سے یہ مکتب فکر تمام مکاتب فکر سے دیرینہ ہے اور اسلام کے مفہوم سے بہت قریب۔ معلوم ہے کہ اسماء تعارف کے ---