کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 650
[1]
[1] کا ایک مکتوب 29 دسمبر 61ء کے ’’الاعتصام‘‘ میں ان گزارشات کے متعلق شائع ہوا ہے۔ جعفری صاحب کا تاثر یہ ہے کہ میں ان تمثیلی مسائل میں شاید امام شافعی رحمہ اللہ کا حامی ہوں، اس لیے میں نے مسائل میں دلائل پر بحث کی بجائے ’’فریاد و فغاں‘‘ سے کام لیا ہے، یا ’’نالہ جانکاہ‘‘ پر اکتفا کیا ہے۔ جعفری صاحب اگر مقالہ کی چند باقی اقساط ملاحظہ فرما لیتے، تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہ مقالہ ان مسائل کی تحقیق کے لیے نہیں لکھا گیا، بلکہ اس کا مقصد صرف اس قدر ہے کہ ان فروع میں تحقیق کے دامن سے وابستگی کے بعد کوئی شخص جو راہ چاہے اختیار کرے، لیکن تلخ نوائی نہیں ہونی چاہیے۔ پھر اگر اقران میں اصاغر و اکابر کا تعلق نہیں ہوتا، لیکن یہ بے حد معیوب ہے کہ ملا جیون رحمہ اللہ، ایسے متاخر حضرات امام شافعی رحمہ اللہ ایسے اکابر کے متعلق ایسی تلخ زبان استعمال کریں، یا ابن العربی امام شافعی رحمہ اللہ کے علم و فضل کے لیے ممتحن قرار دیے جائیں، یا ابن حزم رحمہ اللہ ایسے محقق اور بے خوف امام کے دامن کو اندلس کے بعض مالکی علماء تار تار کرنا شروع کر دیں، خصوصاً درسیات میں تو اس قسم کا مواد قطعاً نہیں آنا چاہیے، اس سے طلباء میں بے ادبی کے جراثیم پیدا ہوں گے۔ جعفری صاحب نے حفظ مراتب سے اغماض فرماتے ہوئے امام شافعی کی کتاب الام کا تذکرہ بھی فرما دیا۔ کتاب الام کے بعض مقامات میری نظر میں ہیں، لیکن میں انہیں اس قبیل سے نہیں سمجھتا، تاہم مناظرہ سے بچتے ہوئے قبول کرتا ہوں کہ یہ انداز جہاں ہو، جس نے اختیار کیا ہو، میں چاہتا ہوں تشدد کے جواز کے لیے دلیل نہ قرار دیا جائے، بلکہ اس عادت کو روکنے کی کوشش کی جائے۔ اس ضمن میں میں ائمہ حدیث اور ناقدین رجال کو مستثنیٰ سمجھتا ہوں، اس فن کا مدعا یہی ہے کہ رجال کے حسن و قبح سے آنے والوں کو آگاہ کیا جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک روایت تاریخ صغیر میں سفیان سے نقل کی ہے، جس میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا تذکرہ نامناسب طور پر ہوا ہے۔ یہ بحث تو آپ فرما سکتے ہیں کہ یہ روایت صحیح نہیں، اس کی نسبت سفیان کی طرف درست نہیں، لیکن نقل روایت پر اگر اعتراض کیا جائے، تو فن کی افادی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ یقیناً بعض جگہ اقران نے اقران کے متعلق بعض تلخ حقائق کا اظہار فرمایا ہے، اس پر اصول روایت کے لحاظ سے اہل فن بحث کر سکتے ہیں، لیکن نقل روایت پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا جعفری کی نزاکتِ طبع کا مجھے پورا پورا احساس ہے، لیکن فن کی افادیت اور ائمہ فن کی ذمہ داریوں کا احساس اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے تاریخ صغیر (ص: 158) پر حمیدی رحمہ اللہ کی ایک رائے نقل کی ہے، جو اس سے بھی تلخ ہے، لیکن بخاری کی حیثیت ناقل کی ہے۔ نقل علم پر کوئی قدغن نہیں لگایا جا سکتا، ورنہ امانت علم میں خیانت کا ارتکاب ہو گا۔ میں چاہتا ہوں کہ مولانا جعفری صاحب فن رجال کی طرف زیادہ توجہ دیں، انہیں محسوس ہو گا کہ فن کی ذمہ داریوں کا کیا تقاضا ہے، حمیدی اور سفیان دونوں کی آراء کو تحقیق کے بعد امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ---