کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 649
مسئلہ درایت و فقہ راوی کا تاریخی و تحقیقی جائزہ
عرصہ ہوا میں نے ایک مضمون حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے تجدیدی اثرات کے متعلق لکھا تھا، جس میں عرض کیا گیا تھا کہ آج سے قریباً چار سو سال پہلے گو حکومت مسلمان تھی، لیکن تقلیدی جمود نے فکر و نظر پر پہرے بٹھا رکھے تھے۔ حضرت مجدد سرہندی رحمہ اللہ سے لے کر حضرت شاہ ولی اللہ اور شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ تک یہ جنگ جاری رہی۔ اس جمود کو توڑنے میں برصغیر کی جماعت اہلحدیث نے بہت بڑا کردار ادا کیا۔ مضمون کئی اقساط میں شائع ہوا تھا۔ [1]
انہیں دنوں برادرم محترم مولانا رئیس احمد صاحب جعفری کا ایک مکتوب ’’الاعتصام‘‘ میں شائع ہوا، جس کا مقصد یہ تھا کہ اہل حدیث کوئی مکتب فکر نہیں، بلکہ یہ اس مقدس گروہ کا نام ہے جنہوں نے فن حدیث کی تدوین فرمائی، حفظ و ضبط و کتابت سے اس کے مختلف گوشوں کی حفاظت فرمائی۔ جعفری صاحب کا یہ ارشاد اور استفسار برادرانہ تھا، میں نے اس وقت جو مستحضر تھا، اس کی روشنی میں جواب عرض کر دیا تھا۔ [2]
[1] یہ مضمون ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ (24 نومبر 1961ء، شمارہ: 17، جلد: 13) کی متعدد اقساط میں ’’تحریک اہلحدیث کا مدو جزر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی کے اثرات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا، جو بعد ازاں کتاب ’’تحریک آزادیِ فکر‘‘ میں اشاعت پذیر ہوا۔ نیز دیکھیں: نگارشات مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ (جلد اول)
[2] حضرت سلفی رحمہ اللہ کا مضمون ’’تحریک اہلحدیث کا مدّو جزر‘‘ ہفت روزہ الاعتصام میں بالاقساط جاری تھا کہ اسی دوران میں مولانا رئیس احمد جعفری کا ایک مکتوب ’’الاعتصام‘‘ (29 دسمبر، 1961ء) میں شائع ہوا، جس میں انہوں نے مسلک اہلحدیث سے متعلق اپنے بعض تحفظات کا اظہار فرمایا۔ حضرت سلفی رحمہ اللہ نے ’’الاعتصام‘‘ (26 جنوری 1962ء) میں جعفری صاحب کے مکتوب کا جواب لکھا، جسے مذکورہ بالا موضوع سے تعلق اور افادیت کے پیش نظر ذیل میں درج کیا جا رہا ہے۔
’’مولانا رئیس احمد جعفری کے جواب میں‘‘
مکرمی! السلام علیکم
’’تحریک اہلحدیث کا مدو جزر‘‘ کے عنوان سے چند گزارشات ’’الاعتصام‘‘ میں بالاقساط شائع ہو رہی ہیں۔ ڈاک سے معلوم ہوتا ہے بعض علمی حلقوں میں یہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جا رہی ہیں۔ برادر گرامی مولانا رئیس احمد جعفری ---