کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 639
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک کتاب حیدر آباد دکن میں اب چھپی ہے اور عجیب یہ ہے کہ اس نسخہ میں اور ان احادیث میں جو محدثین نے اپنی کتابوں میں ضبط فرمائی ہیں، کوئی فرق نہیں۔ یعنی زمانہ نبوت میں جو کچھ لکھا گیا تھا، تیسری اور چوتھی صدی تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، وہ بالکلیہ محفوظ تھا۔ [1]
مرکز ملت:
مرکز ملت کی اگر کوئی تجویز ان حضرات کے ذہن میں ہوتی، تو حدیث کی جمع و تدوین کی ضرورت نہ ہوتی، بلکہ سارے سیاہ و سفید پر مرکز ملت کا قبضہ ہوتا، کیونکہ وہ مختار ہے۔ جب چاہے اساسی اور بنیادی مسائل کو بدل دے۔ نماز، روزہ، حج، زکوۃ تمام بنیادی مسائل اور ارکان میں کمی کرے یا اسے بالکل منسوخ قرار دے دے۔ پھر سچ تو یہ ہے کہ قرآن کی بھی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔ پرویز صاحب کی تفسیر سنیے:
’’نبی اکرم اور خلافت راشدہ میں خدا اور رسول کی اطاعت سے مفہوم مرکز ملت کے فیصلوں کی اطاعت تھا اور بس۔‘‘ (مقام حدیث: 1/25)
زمانہ نبوت اور خلافتِ راشدہ تک مرکز ملت کے مجہول نظریہ کا کوئی نشان نہ تھا، اسی لیے احادیث کے جمع و حفظ اور لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
[1] صحیفہ ہمام بن منبہ عن ابی ہریرہ کی احادیث حرف بحرف مسند احمد بن حنبل میں موجود ہیں۔ (مؤلف) یہ صحیفہ ایک سو اڑتیس (138) احادیث پر مشتمل ہے، جو مسند احمد (2/312 تا 2/319) رقم الحديث (8115 تا 8252) میں موجود ہے اور یہ حفاظت حدیث کی بہت بڑی دلیل ہے۔ اس صحیفہ کی افادی حیثیت کے متعلق محدث العصر حضرت حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ہمام بن منبہ کا صحیفہ جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے، اس میں صرف ایک واسطہ ہے، یعنی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات 58ھ میں ہوئی۔ یعنی آنحضرت کی وفات کے 48 سال بعد، اور یہ صحیفہ قطعاً اس سے پہلے کا ہے، اس میں 138 حدیثیں ہیں۔ یہ سب کی سب ایسی ہیں جو مسند احمد اور صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں آ چکی ہیں، ان کے دیکھنے سے حدیث کی حفاظت کا پتہ چلتا ہے۔ وہ صحیفہ شائع ہو چکا ہے۔ یہ احادیث جن الفاظ کے ساتھ ہمام بن منبہ کے صحیفہ میں ہیں، اسی طرح صحیحین وغیرہ میں پائی جاتی ہیں۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پہلی صدی کے صحیفہ کی احادیث کس طرح تیسری صدی کے مجموعوں میں بعینہٖ نقل در نقل ہو کر آئی ہیں کہ ان میں کسی قسم کی کمی و بیشی نہیں ہوئی۔‘‘ (دوام حدیث: 1/141)