کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 638
تک پہنچ جائے، اس کے خلاف کوئی محدث ہو یا کوئی مجتہد، مجدد ہو یا فقیہ، اس کی بات متروک ہو گی۔ اسی طرح کوئی مرکز ملت ہو یا کوئی خود ساختہ قرآنی معاشرہ یا قرآنی نظام، اس کی کوئی قیمت نہیں ہو گی۔ اس دنیا کا کوئی علم علمِ نبوی سے متعارض اور متصادم نہیں ہو سکتا، بلکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد قرآن کے کسی اجمال کی تفصیل ہو یا کسی حکم کی تشریح اور وضاحت ہو، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد قرآن کے اجمال میں قاضی ناطق ہو گا۔ كما قال الأوزاعي [1] پہلا دور: اسی اصل کی بنا پر زمانہ نبوت ہی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی طرف صحابہ رضی اللہ عنہم نے توجہ مبذول فرمائی۔ کاروباری لوگ نوبت، بنوبت ان دروس و اسباق میں شامل ہوتے، دروس کے حلقوں میں بیٹھتے، احادیث لکھتے، املاء کی مجالس منعقد ہوتیں، احادیث کا سماع اور ضبط ہوتا۔ (مجمع الزوائد للحافظ الهيثمي: 1/379) فارغ البال حضرات پورا وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزار دیتے۔ احادیث لکھتے، یاد کرتے۔ [2] عبداللہ بن عمرو بن عاص کی کتاب ’’صادقہ‘‘ اسی دور کی کتاب ہے، جو پوری کی پوری موطا اور الجامع الصحيح للإمام محمد بن إسماعيل البخاري میں آ گئی ہے۔ [3]
[1] امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’الكتاب أحوج إلي السنة من السنة إلي الكتاب‘‘ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ اس اثر کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’يريد أن تقضي عليه و تبين المراد منه‘‘ یعنی فہم قرآن کے لیے سنت کی اس سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، جتنی کہ فہم سنت کے لیے قرآن مجید کی ضرورت ہے، کیونکہ قرآن مجید میں اصول و مسائل اجمالاً بیان کیے گئے ہیں اور حدیث و سنت اس کی تشریح و تفسیر ہے۔ بعینہٖ یہی قول امام مکحول رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے۔ (جامع بيان العلم: 2/368) اسی طرح امام اوزاعی رحمہ اللہ امام یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں: ’’السنة قاضية علي الكتاب، وليس الكتاب قاضيا علي السنة‘‘ (سنن الدارمي: 1/153، جامع بيان العلم: 2/369) [2] جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے مہاجر بھائی تجارتی معاملات میں مصروف رہتے تھے اور ہمارے انصاری بھائی کاشت کاری میں مشغول رہتے تھے اور ابو ہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹا رہتا تھا۔ بنا بریں وہ ایسے مواقع پر حاضر ہوتا تھا، جہاں دوسرے حاضر نہیں ہوتے تھے اور اسے وہ چیزیں یاد تھیں، جو دوسروں کو یاد نہیں تھیں۔ (صحيح البخاري، برقم: 118) [3] حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی کتابتِ حدیث اور ان کے صحیفہ صادقہ کے متعلق مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: دوام حدیث (1/132)