کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 606
’’زہری رحمہ اللہ کے نزدیک دینار و درہم کی وقعت لید گوبر سے زیادہ نہ تھی۔‘‘ (العبر للذهبي: 1/159، تذكرة الحفاظ: 1/109) [1] عمادی صاحب بتا سکتے ہیں کہ امام زہری پر اس تہمت میں درایتاً ان کا کیا موقف ہے؟ نقل ان کی موید ہے نہ روایت۔ شیعہ سے ایک جذباتی چھیڑ کے علاوہ یہاں قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے ذکر کا کوئی فائدہ بھی ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کی طلب کے لیے ’’جنگ جمل‘‘ کی قیادت فرمائی۔ زہری رحمہ اللہ نے قصہ افک کی تفصیلات روایت فرمائیں۔ آپ نے اس کا جوڑ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے جوڑ دیا! درست ہے یہاں چار سو بیس کے لیے کچھ گنجائش ہو گئی! فدک، اموال خیبر کی بحث اور امام زہری رحمہ اللہ: شیعہ حضرات، اصحاب ثلاثہ رضی اللہ عنہم پر تہمت لگاتے ہیں کہ ان حضرات نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا
[1] امام زہری رحمہ اللہ کی دیانت اور صاف گوئی میں جرأت مندی کا یہ حال تھا کہ خلفاءِ بنی امیہ کے سامنے بھی اعلان حق سے گریز نہیں کرتے تھے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک رات ولید بن عبدالملک لیٹ کر سورت نور کی تلاوت کر رہا تھا اور میں اس کے پاس بیٹھا تھا۔ جب وہ اس آیت: ﴿وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ پر پہنچا، تو اس نے کہا: اے ابوبکر! اس معاملے کا بڑا ذمہ دار کون تھا؟ کیا وہ علی بن ابی طالب نہیں تھا؟ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا: میں کیا کہوں؟ اگر میں نے نفی میں جواب دیا، تو مجھے ڈر ہے کہ اس کی طرف سے مجھے کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر میں نے ہاں کہا، تو مجھ سے بہت بڑا کام سرزد ہو جائے گا۔ میں صحابی رسول کے ذمے ایسی بات لگا دوں گا، جو اس نے نہیں کہی، پھر میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سچائی پر بھلائی کی نعمت عطا کی ہے۔ (تو میں نے کہا) اے امیر المؤمنین! نہیں۔ تو اس نے دو تین بار اپنی چھڑی چارپائی پر ماری اور کہا: تو پھر کون تھا؟ یہاں تک کہ جب اس نے کئی بار کہا، تو میں نے کہا: وہ عبداللہ بن ابی سلول تھا۔ بعد ازاں پوری حدیث افک بیان کی۔(المعجم الكبير: 23/97، فتح الباري: 7/437) اسی طرح ایک بار امام زہری رحمہ اللہ ہشام بن عبدالملک کے پاس گئے، تو اس نے کہا کہ اس (افک) کا بڑا ذمہ دار کون تھا؟ تو امام زہری نے جواب دیا: عبداللہ بن اُبی! جس پر ہشام نے کہا: تم نے جھوٹ کہا ہے۔ وہ علی بن ابی طالب ہے۔ امام زہری نے جواب دیا: کیا میں جھوٹ بولوں گا؟ تیرا باپ نہ رہے۔ اللہ کی قسم! اگر آسمان سے کوئی اعلان کرنے والا اعلان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنا حلال کر دیا ہے، میں تب بھی جھوٹ نہیں بولوں گا! بعد ازیں انہوں نے خلیفہ ہشام بن عبدالملک کو حدیث افک سنائی۔ (تاريخ دمشق: 55/371)