کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 588
[1]
[1] ایک جگہ مولانا فرماتے ہیں:
’’آج میری تنقیدوں سے اتنی مدت کے بعد کتنے راویان حدیث کا کذب و افتراء شارع عام پر آ رہا ہے اور کتنی ایسی حدیثیں، جن پر مدت سے لوگوں کا ایمان تھا، آج بداہتاً جھوٹی ثابت ہو رہی ہیں۔‘‘ (البيان: 45)
مولانا ذرا اپنی تنقید پر میری تنقید بھی ملاحظہ فرما لیں، تاکہ مطلع صاف ہو جائے۔ تعجب ہے کہ آپ حدیث کو ظن کہہ کر ادبی نکتے بیان کرتے ہیں اور آپ بابِ تنقید میں صرف ظن کو استعمال کر رہے ہیں، بلکہ میں تو کہوں گا کہ مولانا نے جس طرح حوالہ جات میں مغالطہ دہی سے کام لیا ہے، وہ آپ ہی کا کام تھا، لہٰذا اس کو سوءِ ظن کہنا چاہیے۔ ﴿وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا﴾!
ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’ایسی حدیث جس کو تمنا جیسا جاہل شخص اس چودھویں صدی کے اواخر میں کذب و افتراء اتنی وضاحت کے ساتھ ثابت کر دے۔‘‘ (البيان: 83)
جاہل شخص کا لقب مبارک ہو! لیکن معلوم ہونا چاہیے کہ جس طرح خدا نے آپ سے علم حدیث کا تعلق و شغف چھین لیا ہے، اسی طرح آپ کی قرآنی بصیرت بھی جواب دے چکی ہے۔ ملاحظہ ہو: ﴿أَعُوذُ بِاللّٰه أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴾ (بقره) سچ ہے: من جهل شيئاً عاداه!
آپ حدیث سے نابلد ہیں، لہٰذا تنقید ہو رہی ہے اور وہ بھی صرف جہالت کی بنا پر اور عداوت کے ماتحت، اور اس پر اگر کوئی دل جلا یہ شعر پڑھ دے تو ناراضگی معاف!
ألا لا يجهلن أحد علينا
فنجهل فوق جهل الجاهلينا ٭
مضمون طویل ضرور ہو گیا ہے جو آج کل کے مذاق کے واقعی خلاف ہے لیکن جب آپ مولانا تمنا کا مضمون اٹھائیس صفحوں پر پھیلا ہوا پائیں گے، تو تطویل مضمونِ ہذا ملول خاطر نہ ہو گی ؎
لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم ٭2
(والسلام)
٭ ہمارے خلاف کوئی بے وقوفی کا مظاہرہ نہ کرے، ورنہ ہم بے وقوفوں کی بے وقوفی سے بھی بڑھ کر بے وقوفی کا مظاہرہ کریں گے!
٭2 گفتگو مزیدار تھی، اس لیے طویل ہو گئی۔