کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 587
[1]
[1] جرح و تعدیل نے کی ہے۔ منکرات سے مراد وہ منکرات ہیں، جن کو احمد کی چند شمار کردہ منکرات کہنا چاہیے، چونکہ امام بخاری کی شروط سخت ہیں، لہٰذا ظاہر ہے کہ وہ یونس کی منکرات نہیں لاتے اور پھر یونس کے ساتھ ان کے چار ساتھی اور ہیں، جس سے درجہ بلند اور ارفع ہو جاتا ہے۔ چوتھے شاگرد عبدالرحمٰن بن خالد ہیں، جن کو آنجناب نے مشتبہ ٹھہرایا ہے، حالانکہ ان کے ترجمہ یعنی ترجمہ عبدالرحمٰن بن خالد بن مسافر الفہمی میں کوئی شیعہ سنی کا ذکر تک نہیں۔ دیکھئے: ’’تهذيب‘‘ (6/145، 146) جس لفظ سے جناب کو شک پڑا ہے، وہ ’’عندهم من أهل الصدق‘‘ میں ’’عندهم‘‘ ہے اور اس سے محدثین مراد ہیں نہ کہ شیعہ۔ فافهم! باقی جو ان چاروں کے شاگرد ہیں، جن کی تعداد مولانا نے چھ بتلائی ہے، ان کو نہیں چھیڑا، لہٰذا ہم بھی چپ رہتے ہیں، لیکن یہ عرض کیے بغیر نہیں رہتے کہ مولانا! وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا، وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ! آگے فرماتے ہیں: ’’زہری کا ایک استاد صرف عبید ہے۔‘‘ حالانکہ ہم نے اپنے نقشہ میں عبید کے ساتھ خارجہ بن زید کو بھی بخاری سے ثابت کیا ہے، جس سے مولانا کا بنا بنایا کھیل بگڑ گیا۔ اب ایک گنجائش رہ جاتی ہے کہ خارجہ کو واقعہ جمع قرآن درعہد عثمانی کے ساتھ ملا کر اس کا تعلق عبید سے توڑا جائے، لیکن اس کے متعلق ابن کثیر رحمہ اللہ کا بیان سن لیجیے، کتاب فضائل القرآن تالیف شیخ عماد الدین ابن کثیر (ص: 22) میں ہے: ’’إنما هذا كان حال جمع الصديق المصحف كما جاء مصرحاً به في غير هذه الرواية عن الزهري عن عبيد بن السباق عن زيد بن ثابت‘‘ ناظرین! جن دو حدیثوں کو مولانا نے خارج از بخاری بتا کر بالکل جھوٹا ثابت کرنا چاہا تھا، اس کو آپ نے ملاحظہ فرما دیا۔ اب ایک اور حدیث کو میری طرف سے شرف ملاحظہ فرما کر اپنی تحقیق میں اضافہ اور مولانا تمنا کی کوشش بے کار پر صد آفریں کہیں۔ تفسیر اِتقان (1/57) میں ہے: ’’أخرج ابن أبي داود في المصاحف بسند حسن عن عبد خير قال: سمعت عليا يقول: أعظم الناس في المصاحف أجراً أبوبكر، رحمة اللّٰه علي أبي بكر، هو أول من جمع كتاب اللّٰه ، وفي فضائل القرآن لابن كثير أن أبا بكر كان أول من جمع القرآن بين اللوحين، هذا إسناد صحيح‘‘ یہ حدیث فتح (9/9 مصری) اور فضائل القرآن لابن کثیر (ص: 12) پر بھی موجود ہے اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کو صحیح ثابت کیا ہے۔ مولانا تمنا سے استدعا ہے کہ اس پر بھی کچھ نظر کرم فرمائیں! بخاری پر اعتراض: ان چاروں راویوں پر جرح درحقیقت امام بخاری رحمہ اللہ پر اعتراض ہے، سو اس کی بابت عرض ہے کہ ہمارا عقیدہ بخاری رحمہ اللہ کے متعلق یہ ہے کہ ’’نظر البخاري أدق من أن يعترض عليه‘‘ (فتح: 1/142 مصري) ’’وأنه خلق للحديث‘‘ اور ہم عقیدت کی بنا پر ہی نہیں، بلکہ حمایت دین اور حفاظت حدیث کی خاطر آپ کے ہر بیان کو تحقیق کی کسوٹی پر کسیں گے: ﴿لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ﴾