کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 586
[1]
[1] جو کچھ میں نے لکھا ہے، وہ صرف دیانت سے لکھا ہے۔ يا للعجب!
پھر فرماتے ہیں: ابو الیمان کا سماع شعیب سے مشتبہ ہے۔ اور حوالہ دیا ہے کہی کا، جو ’’تهذيب‘‘ (جلد 12) ہے، حالانکہ ابو الیمان کا نام حکم بن نافع ہے اور ان کا ترجمہ ’’تهذيب‘‘ (2/44) میں ہے اور اس میں اس کو شعیب کا شاگرد کہا ہے۔ بخاری اور مسلم، امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، ذہلی، ابو زرعہ کا استاد ہے۔ (تذكرة الحفاظ: 2/372) اور علامہ ذہبی نے اس کی بہت تعریف کی ہے، لیکن حضرت تمنا ہیں کہ صرف مسئلہ کا ایک ہی پہلو دیکھتے ہیں۔ اس پر دعویٰ ہے دیانت کا اور احقاقِ حق کا۔ سبحان اللّٰه !!
دوسری سند میں مولانا نے ابراہیم بن سعد کو مورد جرح گردان کر خوب داد دی ہے اور تلقین کی ہے کہ اس کا ترجمہ زہری کے ترجمہ میں دیکھو۔ ہم نے تہذیب کا وہ صفحہ، جو مولانا نے بیان کیا ہے، خوب غور سے دیکھا، لیکن ہم کامیاب نہ ہوئے۔ اصل میں ابراہیم مذکور کا ترجمہ ’’تهذيب‘‘ (1/121) میں ہے، نہ کہ ترجمہ زہری میں، جیسا کہ مولانا فرماتے ہیں، اور پھر تعجب یہ ہے کہ دعویٰ دیانت کا ہے!
اصل عبارت یہ ہے:
’’قال صالح بن جزرة: حديثه عن الزهري ليس بذاك لأنه كان صغيرا حين سمع من الزهري‘‘
یہ جرح ہے، جس پر مولانا کو ناز ہے!!
اب دیکھنا یہ ہے کہ زہری کس سن میں فوت ہوئے اور ابراہیم کس سن میں پیدا ہوئے؟ زہری کا سن وفات 125ھ ہے اور ابراہیم کا سن ولادت 108ھ ہے، یعنی زہری کی وفات کے وقت ان کی عمر 17 سال کی تھی، جو حافظ صالح جزرہ کے نزدیک صغر سنی کی عمر ہے، حالانکہ بلوغ 14 تا 15 سال تک معتبر ہے۔ یعنی یہ کوئی جرح نہیں ہے اور پھر ہم اہلحدیث پر یہ کوئی بڑی جرح نہیں، کیونکہ ہم تو چھ سال کے لڑکے کے پیچھے نماز جائز سمجھتے ہیں اور بلوغ کا معیار ہمارے ہاں یہ ہے کہ قوائے عقلی و نفسی مکمل ہو جائیں اور ظاہر ہے یہ عمر سے متعلق نہیں ذہن سے ہے۔ زیادہ تحقیق منظور ہو، تو بخاری میں ’’باب متي يصح سماع الصغير‘‘ کو دیکھ لیں، لیکن مشکل یہ ہے کہ آپ پر حدیث حجت ہی نہیں، آپ صرف قرآن کو سند فرماتے ہیں، حدیث کچھ نہیں!
لہٰذا عرض ہے کہ قرآن کی آیت ﴿فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ﴾ کو دیکھ لیں اور لفظ ﴿السَّعْيَ﴾ سے بلوغت کی عمر نکال لیں۔ فهو المراد!
تیسرے زہری کے شاگرد یونس بن یزید ہیں۔ مولانا نے تہذیب سے امام احمد بن حنبل کی جرح نقل کی ہے، لیکن خیانت سے کام لیا ہے۔ تہذیب کی اصل عبارت یہ ہے:
’’في حديث يونس عن الزهري منكرات، منها عن سالم عن أبيه: فيما سقت السماء العشر ۔۔ الخ‘‘ (تهذيب: 11/451)
اس کے ساتھ ہی فضل بن زیاد نے امام احمد سے ثقہ لکھا ہے اور پھر اسی کی توثیق کئی ایک ائمہ حدیث و ائمہ