کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 585
[1]
[1] مولانا سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کا چار اور چھ میں حصر کرنا کیا ہوا؟ اور پھر اس روایت کو بخاری نے تقریباً پانچ جگہ بیان کیا ہے، کتاب الجہاد میں، کتاب التفسیر میں، کتاب الفضائل میں، کتاب الاَحکام میں، کتاب التوحید میں۔ باوجود پانچ جگہ ذکر ہونے کے ان کا مضحکہ خیز دعویٰ اور پھر یقین کے ساتھ دعویٰ بھی ہے کہ اس کو ’’باب جمع القرآن‘‘ میں کسی نے داخل کر دیا ہے، اصل بخاری میں نہیں ہے۔ صرف یہی دلیل مولانا کے دعویٰ کی تردید کے لیے کافی ہے، لیکن صرف اسی پر بس نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں، ترمذی نے اپنی سنن میں، امام نسائی نے کتاب فضائل القرآن میں بھی اس کو ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: عینی اور تحفۃ الاحوذی۔ تنقید کا جواب: اول تو زہری کو لیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ نہ مدنی ہیں اور نہ ہی زہرہ قبیلے سے ہیں۔ ان کا آبائی وطن ایلہ تھا اور یہ بنی زہرہ کے موالی ہیں اور دعویٰ پر دلیل کتاب جمع القرآن کو پیش کیا ہے۔ جہاں تک کتب حدیث اور کتب اسماء الرجال کا تعلق ہے، اس میں ان کو مدنی کہا گیا ہے اور زہری کا لقب بھی دلیل ہے کہ موالی بنی زہرہ نہیں، بلکہ آزاد ہیں۔ ان کا نسب نامہ حسب ذیل ہے: ’’محمد بن مسلم بن عبيداللّٰه بن عبداللّٰه بن شهاب بن عبداللّٰه بن الحارث بن زهرة بن كلاب بن مرة القرشي الزهري‘‘ (تهذيب: 9/445) مولانا کو چاہیے کہ اپنے دلائل قاطعہ کو پیش کریں، تاکہ ہم بھی مستفید ہوں۔ پھر زہری پر جرح کی ہے۔ اسماء الرجال کی جتنی کتب ہیں، ان سب میں ان کو امام الحدیث لکھا ہے۔ میں اگر صرف ان کی توثیق کے متعلق حوالے درج کروں، تو کم از کم چار صفحے درکار ہیں۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: ’’اتفقوا علي إتقانه و إمامته‘‘ (فتح الباري: 1/18 مصري، تذكرة الحفاظ 1/102 اور تهذيب 9/445) سب سے بڑا تیر جو مولانا اپنے ترکش میں زہری کے خلاف رکھتے ہیں، وہ ’’يكتب كلما سمع ۔۔الخ‘‘ ہے، حالانکہ ’’كلما سمع‘‘ کا مطلب اس کے آگے ہی کھل جاتا ہے کہ انساب، حدیث، تفسیر، تاریخ، فرائض، مولدات، وفیات وغیرہ۔ یہ جرح نہیں بلکہ زہری کی توثیق ہے کہ یہ ہر فن میں ماہر تھے۔ آگے باری آتی ہے شعیب کی، اس کو مولانا زہری کا ہم وطن اور نئی افرنگی تہذیب میں ’’پرائیویٹ سیکرٹری‘‘ فرماتے ہیں، گویا ایک قسم کی توہین ہے۔ بتانا یہ چاہتے ہیں کہ ان دونوں کی سازش تھی جس سے یہ حدیث گھڑی گئی۔ لفظ ’’پرائیویٹ‘‘ کو غور سے دیکھو۔ اب ذرا ان کا حال حفاظ کی زبان سے سنیے: ’’ثقه متفق عليه، أثنيٰ عليه الأئمة، كان أصح حديثا عن الزهري وغيره‘‘ (تهذيب: 4/350) علامہ ذہبی ’’تذكرة الحفاظ‘‘ (1/205) میں فرماتے ہیں: ’’الإمام الحجة المتقن‘‘ امام زہری کی املاء پر انہوں نے خلیفہ ہشام کو کچھ حدیثیں لکھ دیں تھیں۔ ’’تذكرة الحفاظ‘‘ میں ہے: ’’كان مليح الضبط أنيق الخط‘‘ جس سے مولانا تمنا نے جان بوجھ کر ان کو پرائیویٹ سیکرٹری ٹھہرا دیا اور دعویٰ یہ ہے کہ