کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 583
[1]
[1] ہے، پھر اس پر بحث کرتے ہیں، لہٰذا ان کی اصل عبارت پیش کی جاتی ہے، تاکہ ناظرین اندازہ لگائیں کہ اس میں کتنی صداقت ہے؟ فرماتے ہیں: ’’عبید بن سباق سے روایت کرنے والے بہتیرے تھے، مگر عبید نے جمع قرآن کی روایت زہری سے بیان کی، اس لیے کہ یہ ہر رطب و یابس روایت کو لکھ لیتے اور کوئی چون و چرا نہیں کرتے۔ زہری کے ہزاروں شاگرد تھے، ٭ امام مالک، عمر بن عبدالعزیز، عمرو بن دینار، صالح بن کیسان، اوزاعی، ابن ابی ذئب، ابن عیینہ وغیرہم، مگر زہری نے جمع قرآن کی روایت کے لیے صرف چار شخصوں کو منتخب کیا۔ ایک تو اپنے کاتب کو، جو ان کے ہم وطن اور کاتب گویا پرائیویٹ سیکرٹری یعنی شعیب بن ابی حمزہ، مگر ان سے بھی صرف ایک ہی شخص ابو الیمان روایت کرتے ہیں، جن کا ان سے سماع حدیث مشتبہ ہے۔ تہذیب التہذیب ترجمہ ابو الیمان۔ دوسرے ابراہیم بن سعد ہیں جن کے متعلق تہذیب التہذیب زہری ٭٭ میں ہے کہ ان کی حدیثیں زہری سے کچھ یوں ہی سی ہیں، کیونکہ یہ زہری کی وفات کے وقت کم سن تھے۔ زہری سے سماع حدیث کا وقت نہیں پایا۔ تیسرے یونس بن یزید تھے، جو زہری کے ہم وطن تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام آزاد کردہ تھے۔ امام احمد بن حنبل نے ان کو زہری ہی کی حدیثوں میں خصوصیت کے ساتھ منکر حدیثیں روایت کرنے والا لکھا ہے۔ دیکھو: تہذیب التہذیب آخر جلد، ترجمہ یونس بن یزید۔ اب صرف ایک رہ گئے، عبدالرحمٰن بن خالد، یہ شیعوں کے ہاں ثقہ ہیں اور سنّیوں کے ہاں منکر الحدیث۔ دیکھو: تہذیب التہذیب، بس یہی چار ہے جو اس حدیث جمع قرآن کو صرف زہری سے روایت کرتے ہیں، شعیب سے صرف ابو الیمان اپنی سماعت بیان کرتے ہیں اور عبدالرحمٰن بن خالد سے صرف لیث بن سعد روایت کرتے ہیں، اور یونس سے صرف یہی لیث اور عثمان بن عمرو اور ابراہیم بن سعد سے ان کے بیٹے یعقوب اور دو شخص اور موسیٰ بن اسماعیل اور ابو ثابت، اور یہ چھ راوی امام بخاری سے کہتے ہیں، بس یہی سلسلہ روایت ہے جمع قرآن بعہد صدیقی کی داستان کا، امام بخاری سے اوپر چھ راوی اور ان چھ سے اوپر چار، چاہے وہ چار کیسے ہی ہوں، ان چھ اور چار کو سب دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اتنے لوگ روایت کر رہے ہیں، مگر اس کو نہیں دیکھتے کہ ان کے چار کے اوپر تو صرف اور تنہا ابن شہاب زہری ہیں اور زہری سے اوپر تنہا عبید بن سباق، اور عبید سے اوپر زید بن ثابت اور عبید بن سباق نے زید بن ثابت کو کبھی دیکھا بھی نہ ہو گا، مگر اس حدیث پر ایسا ایمان ہے کہ اگر کوئی انکار کرے تو عجب کیا کہ فوراً کفر کا فتویٰ دے دیا جائے!‘‘ (البيان: 28، 29) ٭زہری کی توثیق کے لیے یہی کافی ہے۔ (لائل پوري) ٭٭ترجمہ زہری میں نہیں، بلکہ ترجمہ ابراہیم بن سعد میں۔ (لائل پوري)