کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 582
[1]
[1] جب تو آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ﴾ پر پہنچو، تو مجھے آگاہ کرنا۔ جب میں اس آیت پر آیا، تو میں نے ام المومنین کو آگاہ کیا۔ آپ نے مجھے یہ آیت اس طرح لکھوائی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ﴾
ناظرین خط کشیدہ عبارت کو غور سے دیکھیں اور مولانا تمنا کی تحقیق کی داد دیں۔ کیا مولانا چاہتے ہیں کہ قرآن میں بھی اضافے ہوں؟
مولانا نے تہذیب کا حوالہ دیا ہے، تاکہ اصل حقیقت پر سے پردہ نہ ہٹ جائے۔ جب یہ اصل روایت موطا امام مالک میں موجود ہے، تو تہذیب کے حوالہ کی ضرورت کیا تھی؟
مطلب یہ تھا کہ اگر اصل کتاب کا حوالہ دیا جائے، تو قلعی کھلتی ہے اور بھید ظاہر ہوتا ہے!!
دوسرا کاتب ابو یونس، مصحف عائشہ رضی اللہ عنہا کا کاتب ہے۔ اس کا حوالہ مولانا تمنا نے ابن ابی شیبہ کا دیا ہے۔ غرض صاف ہے کہ نہ ابن ابی شیبہ کسی کے پاس ہو گی اور نہ ہی کوئی اصل حقیقت سے واقف ہو گا، حالانکہ ابو یونس کا ذکر ’’موطأ امام مالك مع تنوير الحوالك‘‘ (1/158) و ’’ترمذي مع تحفة الأحوذي‘‘ (4/76) و ’’نسائي‘‘ (1/82) اور ایک جگہ صحیح مسلم میں بھی آیا ہے، اور ’’تهذيب التهذيب‘‘ (12/283، 284) میں بھی اس کا ذکر ہے اور تمام کتابوں میں عبارت وہی ہے جو موطا کے حوالے سے پہلے لکھی جا چکی ہے اور وہ مولانا تمنا کے مقصد خاص کے خلاف ہے۔
تعجب ہے کہ دولابی نے ’’کتاب الکنیٰ‘‘ میں ابو یونس کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے اس کا نام ذکر کیا ہے، صرف کنیت ہی سے بیان کیا ہے۔ اگر کسی صاحب کے علم میں یہ بات آئی ہو، تو بیان فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔
تیسرا کاتب قرآن جس کا ذکر مولانا نے استیعاب کے حوالے سے ذکر کیا ہے، اس کی بابت عرض ہے کہ صاحب استیعاب نے اسے صاحب الوحدان سے ذکر کیا ہے اور صحابی گردانا ہے۔ دوسری کتب اس پر خاموش ہیں، لیکن ہم مانتے ہیں کہ حضرت ناجیہ طفاوی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں اور وہ مصحف لکھا کرتے تھے، مگر اس کی تصریح کہاں ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کتابتِ قرآن کا مشغلہ فرماتے تھے؟
حافظ ابن حجر نے جو تعداد کاتبوں کی ذکر کی ہے، وہ یہ ہے۔ حافظ صاحب رحمہ اللہ تحت حدیثِ زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’وممن كتب له في الجملة: الخلفاء الأربعة والزبير بن العوام و خالد و أبان ابنا سعيد بن العاص بن أمية و حنظلة بن الربيع الأسدي و معيقيب بن أبي فاطمة و عبداللّٰه بن الأرقم الزهري و شرجيل بن حسنة و عبداللّٰه بن رواحة في آخرين‘‘ (فتح الباري: 9/28 مصري)
حدیث زہری:
بخاری کی ’’باب جمع القرآن‘‘ والی پہلی روایت پر مولانا تمنا کا بڑا زور ہے۔ پہلے تو باب میں داخل فرمایا