کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 581
[1]
[1] جمع قرآن میں مغالطہ دہی: امت محمدیہ کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ قرآن مجید تئیس سال کی مدت میں حسب ضرورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا، جو متفرق طور پر صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ اور کاغذوں، کھالوں، ہڈیوں وغیرہ پر لکھا جاتا تھا، جس کو سب سے پہلے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں حضرت زید بن ثابت (کاتب قرآن در عہد نبوی) سے لکھوایا، پھر عہد عثمانی میں متعدد نسخے لکھوائے گئے اور وہی قرآن اب تک متواتر دنیا میں موجود ہے۔ اس پر مجھے چنداں بحث کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس پر امت محمدیہ کا اتفاق ہے۔ لیکن مولانا تمنا کا عقیدہ اور مذہب یہ ہے کہ قرآن مجید عہد نبوی میں مکمل طور پر ایک جلد کی شکل میں مدون تھا۔ عہد صدیقی و عہد عثمانی والا قصہ من گھڑت ہے۔ فرماتے ہیں: ’’یہ ام المومنین کے پاس ایک قرآن مرتب و مدون موجود تھا، یہاں تک کہ بعض کے کاتبوں کے نام بھی حدیث و رجال کی کتابوں میں مذکور ہیں، جیسے عمرو بن رافع، جو حضرت حفصہ کے مصحف کے کاتب تھے۔ (تهذيب: 8/33) ابو یونس حضرت عائشہ صدیقہ کے مصحف کے کاتب تھے۔ (كتاب المصاحف ابن أبي شيبة، ص: 322) اور بعض صحابہ کتابتِ مصاحف کا مشغلہ رکھتے تھے، مثلاً حضرت ناجیہ الطفاوی وغیرہ۔ (استيعاب: 1/306) ۔۔۔الخ‘‘ (البیان، ص: 22) مولانا کی مندرجہ بالا محولہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ حضرت حفصہ و حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کے پاس زمانہ نبوی میں قرآن مرتب و مدون تھا۔ اب سنیے! اصل حقیقت کیا ہے۔ پہلے عمرو بن رافع کی، جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے مصحف کے کاتب تھے، کیفیت ملاحظہ ہو۔ تہذیب کے اسی صفحہ پر، جس کا مولانا نے حوالہ دیا ہے، یہ الفاظ بھی ملتے ہیں: ’’ذكره ابن حبان في الثقات‘‘ سوال یہ ہے کہ اگر انہوں نے عہد نبوی میں قرآن لکھا تھا، تو ابن حبان کو توثیق کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ کیونکہ ثقہ ہونے کے لیے صحابہ کرام کا صحابی ہونا ہی کافی ہے۔ تقریب (ص: 319) میں ہے: ’’عمرو بن رافع العدوي مولاهم، مقبول من الرابعة‘‘ ’’مقبول‘‘ کا لفظ بتا رہا ہے کہ یہ صحابی نہیں ہیں اور پھر ’’من الرابعة‘‘ لفظ اشارہ کر رہا ہے کہ یہ تابعی ہیں۔ ان کی روایت صحاح ستہ اور مسند احمد میں نہیں ہے۔ موطا امام مالک میں البتہ ان کی روایت آئی ہے۔ إسعاف المبطا (ص: 30) میں ہے: ’’عمرو بن رافع مولي عمر قال: ”كنت أكتب مصحفا لأم المؤمنين حفصة“ الحديث، و عنه زيد بن أسلم و أبو جعفر الباقر و نافع، وثقه ابن حبان، وليست له رواية في الكتب الست ولا مسند أحمد‘‘ اب حضرت حفصہ کے اس کاتبِ قرآن کی طرف آئیے۔ موطأ امام مالک مع شرح تنوير الحوالك (1/158، باب الصلوة الوسطي) میں ہے کہ عمرو بن رافع بیان کرتے ہیں: مجھ کو ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ