کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 580
[1]
[1] وہ تدلیس ہے، جس کا ذکر میزان میں اس جگہ پر ہے، مگر مولانا تمنا کو کیا پڑی ہے کہ خواہ مخواہ اس کا بھی ذکر کریں؟ انہیں تو اپنے مطلب سے غرض ہے! سنیے! صاحبِ میزان خود فرماتے ہیں: ’’أحد الأئمة الثقات، عداده في صغار التابعين، ما نقموا عليه إلا التدليس‘‘ لفظ ’’أفسد‘‘ جس سے دھوکا دیا جاتا ہے، اس کے متعلق صاحب میزان کا بیان دیکھنے کے قابل ہے: ’’كأنه عني الرواية عمن جاء، وإلا فالأعمش عدل، صادق، ثبت، صاحب سنة و قرآن، يحسن الظن بمن يحدثه، و يروي عنه، ولا يمكننا أن نقطع عليه بأنه علم ضعف ذلك الذي يدلسه، فإن هذا حرام‘‘ (ميزان: 1/423) دوسرا عیب اعمش پر تشیع کا ہے، نہ کہ رفض کا، اور تشیع اس وقت یہی تھا کہ حضرت علی کو نسبتاً محبت و عقیدت کا مرکز ٹھہرایا جائے۔ اس میں روافض کا وہ غلو نہیں تھا، جو بعد میں پیدا ہوا۔ (تهذيب علي التقريب: 3) اور اس سے تو شاید مولانا تمنا صاحب بھی نہ بچے ہوں گے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: ’’فهذا كثير في التابعين و أتباعهم مع الدين والورع والصدق ۔۔الخ‘‘ (لسان: 1/9) یہ حالت تو مولانا تمنا صاحب کے حوالہ جات کی تھی، اب ائمہ جرح و تعدیل کا بیان ملاحظہ فرمائیے: (1) علامہ ذہبی نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘ (1/145) میں اعمش کو ’’شيخ الإسلام‘‘ کا لقب عطا فرمایا ہے۔ (2) صاحبِ خلاصہ نے فرمایا ہے: ’’أحد الأعلام الحفاظ‘‘ (حاشيه تذكرة الحفاظ، ص: 145) (3) ابن عیینہ فرماتے ہیں: ’’كان الأعمش أقرأهم لكتاب اللّٰه ، وأحفظهم للحديث، و أعلمهم بالفرائض‘‘ (4) فلاس کہتے ہیں: ’’كان الأعمش يسمي المصحف، من صدقه‘‘ (5) یحییٰ قطان کا مقولہ ہے: ’’الأعمش علامة الإسلام‘‘ (6) ابن المدینی نے فرمایا ہے: ’’حفظ العلم علي أمة محمد صلي اللّٰه عليه وسلم ستة: عمرو بن دينار بمكة، والزهري بالمدينة، وأبو إسحاق السبيعي، والأعمش بالكوفة ‘‘ (تهذيب: 4/223) (7) ’’وقال يحييٰ بن معين: كان جرير إذا حدث عن الأعمش قال: هذا الديباج الخسرواني‘‘ (8) ابن معین نے فرمایا: ’’الأعمش فقير صبور، مجانب للسلطان، ورع عالم بالقرآن‘‘ (9) سبیعی کے متعلق علامہ ذہبی نے ’’أحد الاعلام‘‘ فرمایا ہے۔ (تذكرة الحفاظ: 1/108) اور امام احمد بن حنبل نے ثقہ قرار دیا ہے۔ (تهذيب: 8/64)